Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 91

بانس کی ٹوکری اور پھولوں کی پتی

مہنگی خوشبو اور پرانا آنگن

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں دنیا بھر کے قیمتی اور برانڈڈ پرفیومز اس کے کمرے کو مہکاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے صبح سویرے اٹھ کر بانس کی ایک پرانی ٹوکری میں پھول چنے اور انہیں بیچ کر اس کا مستقبل سنوارا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی بلقیس کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال گھر میں اسی پرانی بانس کی ٹوکری کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا احسان تھا، جسے مائی بی بی بلقیس نے لوگوں کے باغوں میں مزدوری کر کے، خود کانٹوں کی چبھن سہہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

احسان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس بانس کی ٹوکری کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی بلقیس ہر روز شام کو اسی پرانی ٹوکری کو اپنے بستر کے پاس رکھ لیتی، اس کے کناروں کو سہلاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا احسان کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس ٹوکری کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی محنت کی خوشبو ہمیشہ یاد رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی بلقیس کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ احسان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ احسان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب احسان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، তো اس بانس کی پرانی ٹوکری میں رکھے ایک کاغذ پر اس کی نظر پڑی، جو مائی بی بی بلقیس کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے احسان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس ٹوکری کے پھولوں کی طرح ہمیشہ تیرے نصیب کو مہکانے کی دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی احسان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی ٹوکری سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: بانس کی ٹوکری اور پھولوں کی پتی

ہیرو: مائی بی بی بلقیس (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: احسان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments