Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 90

مٹی کی تختی اور ادھورے حرف

بچپن کی یادیں اور تنہا صحن

ماں کی دھندلی آنکھیں اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں بڑی بڑی ڈیجیٹل سکرینیں اور جدید لیپ ٹاپ اس کا روزمرہ بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے بچپن میں مٹی کی ایک ٹوٹی ہوئی تختی پر انگلی سے پہلا حرف لکھنا سکھایا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی سکینہ کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں لکڑی کے فریم والی اسی پرانی مٹی کی تختی کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فیضان تھا، جسے مائی بی بی سکینہ نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود سردی اور گرمی جھیل کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

فیضان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانی تختی کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی سکینہ ہر روز شام کو اسی پرانی تختی کو اٹھا لیتی، اپنے کپڑے کے پلو سے اس کی مٹی صاف کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا فیضان کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس تختی کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کے پہلے سبق کی خوشبو یاد رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی سکینہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ فیضان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فیضان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب فیضان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر کے پاس رکھی اسی مٹی کی تختی پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی سکینہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فیضان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس تختی پر ہمیشہ تیرے روشن مستقبل کی دعا لکھی ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فیضان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی تختی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔

کہانی کا نام: مٹی کی تختی اور ادھورے حرف

ہیرو: مائی بی بی سکینہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: فیضان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments