Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 89

پیتل کا دیا اور ادھوری شام

روشن راستے اور تنہا آنگن

ماں کی دھندلی آنکھیں اور بیٹے کی دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی بلند منزلوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں برقی قمقمے اور بڑے فانوس اس کے گھر کو جگمگاتے ہیں، তো وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے اندھیری اور کچی راتوں میں پیتل کا ایک چھوٹا سا دیا جلا کر اس کے مستقبل کو روشن کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی حمیرا کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال مکان میں پیتل کے اسی پرانے دیے کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا شہزاد تھا، جسے مائی بی بی حمیرا نے لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے، خود اندھیرے میں بیٹھ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

شہزاد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پیتل کے دیے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی حمیرا ہر روز شام کو اسی دیے میں تیل ڈالتی، اسے روشن کرتی اور اس امید پر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا شہزاد کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس دیے کو اس لیے جلاتی تھی تاکہ اس کا بیٹا اندھیرے میں بھٹک نہ جائے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی حمیرا کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ شہزاد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ شہزاد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب شہزاد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے دیے کے پاس رکھے ایک کاغذ پر اس کی نظر پڑی، جو مائی بی بی حمیرا کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے شہزاد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے راستے کی روشنی کے لیے ہمیشہ یہ دیا جلایا ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی شہزاد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پیتل کے دیے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ دیا ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔

کہانی کا نام: پیتل کا دیا اور ادھوری شام

ہیرو: مائی بی بی حمیرا (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: شہزاد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments