لکڑی کا طاق اور پرانی کتاب
روشنی کی تلاش اور ادھورے ورق
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی معراج پر پہنچا دیتی ہے جہاں ڈیجیٹل سکرینز اور مہنگی لائبریریاں اس کے مطالعے کا شوق پورا کرتی ہیں، تو وہ اکثر اپنے ماضی کی اس پرانی اور پھٹی ہوئی کتاب کو بھول جاتا ہے جسے اس کی ماں نے لوگوں سے مانگ کر اور راتوں کو جاگ کر اس کے نصاب میں پورا کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی سکینہ کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں لکڑی کے ایک پرانے طاق پر رکھی ہوئی پھٹی پرانی کتاب کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا دانش تھا، جسے مائی بی بی سکینہ نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
دانش جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانی کتاب کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی سکینہ ہر روز شام کو اسی طاق کے پاس بیٹھ جاتی، اپنے کانپتے ہاتھوں سے اس کتاب کے اوراق صاف کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا دانش کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس کتاب کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کے بچپن کی محنت اور اس کے خواب یاد رہیں، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی سکینہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ دانش جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ دانش کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب دانش نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس لکڑی کے طاق پر رکھی اسی پرانی کتاب پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر ایک کاغذ پر مائی بی بی سکینہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے دانش، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس کتاب کے ہر ورق پر تیرے روشن مستقبل کی دعائیں لکھی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی دانش کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی کتاب سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔
کہانی کا نام: لکڑی کا طاق اور پرانی کتاب
ہیرو: مائی بی بی سکینہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: دانش (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.