Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 86

شال کا پلو اور ٹھنڈی ہوائیں

سرد راتیں اور تنہا آنگن

ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی پرتعیش دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی چکاچوند دنیا میں لے جاتی ہے جہاں قیمتی اور برانڈڈ کوٹ اس کے آرام کا سامان بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے کجی سردی کی راتوں میں خود کو پُرانی اور پھٹی ہوئی شال میں لپیٹ کر اس کو گرم چادر اوڑھائی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی ممتاز کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں اون کی ایک پرانی اور گسی ہوئی شال کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ریحان تھا، جسے مائی بی بی ممتاز نے لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے، خود سردی میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

ریحان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانی شال کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی ممتاز ہر روز شام کو اسی پرانی شال کو اپنے کندھوں پر ڈال لیتی، اس کے پلو کو اپنے سینے سے لگاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ریحان کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس شال کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی محنت کی گرمی کا احساس ہوتا رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی ممتاز کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ریحان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ریحان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب ریحان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر پر رکھی اسی شال پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی ممتاز کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ریحان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس شال کے سائے میں ہمیشہ تیرے لیے دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ریحان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی شال سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

Post a Comment

0 Comments