Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 84

لوہے کی چھڑی اور سہاراماں

بڑھاپے کا سہارا اور ادھورے دن

ماں کے کانپتے قدم اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہر طرف عیش و آرام اور بڑی گاڑیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے بڑھاپے میں چلنے کے لیے لوہے کی ایک پرانی چھڑی کا سہارا چھوڑ کر اپنی ساری طاقت اس کے قدموں میں ڈال دی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی راضیہ کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں لکڑی اور لوہے سے بنی ہوئی ایک پرانی چھڑی کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا تنویر تھا، جسے مائی بی بی راضیہ نے لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے، خود درد سے کراہتے ہوئے بھی دن رات محنت کر کے اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

تنویر جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانی چھڑی کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی راضیہ ہر روز شام کو اسی پرانی چھڑی کے سہارے دروازے تک جاتی، اسے تھام کر باہر دیکھتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا تنویر کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس چھڑی کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بڑھاپے کے ساتھ اپنے بیٹے کی یاد بھی جڑی رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی راضیہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ تنویر جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ تنویر کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب تنویر نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر کے ساتھ رکھی اسی لوہے کی چھڑی پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی راضیہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے تنویر، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس چھڑی کے سہارے صرف تیرے لوٹ آنے کا انتظار کیا ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی تنویر کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی چھڑی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔

کہانی کا نام: لوہے کی چھڑی اور سہارا ماں

ہیرو: مائی بی بی راضیہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: تنویر (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments