چرمی جوتا اور ماں کے چھالے
پکے راستے اور کچے پاؤں
ماں کی تھکی سانسیں اور بیٹے کی دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی راہوں پر لے جاتی ہے جہاں قیمتی اور برانڈڈ جوتے اس کے قدموں کی زینت بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے ننگے پاؤں کانٹے چن کر اس کے لیے زندگی کے راستے ہموار کیے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی رشیدہ کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال گھر میں اپنے بیٹے کے بچپن کا ایک پرانا اور پھٹا ہوا چرمی جوتا سنبھال کر اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا شہباز تھا، جسے مائی بی بی رشیدہ نے لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے، خود اپنے پیروں کے چھالے چھپائے بغیر اور ایک ایک پائی جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
شہباز جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے جوتے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی رشیدہ ہر روز شام کو اسی پرانے جوتے کو اپنے ہاتھ میں لیتی، اس کی مٹی صاف کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا شہباز کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس جوتے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کے پہلے قدموں کی یاد تازہ رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی رشیدہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ شہباز جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ شہباز کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب شہباز نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے جوتے کے ساتھ رکھے ایک کاغذ پر اس کی نظر پڑی، جو مائی بی بی رشیدہ کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے شہباز، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے بچپن کی یہ نشانی اس لیے سنبھالی تھی کہ میرے دل کو تسلی رہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی شہباز کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے جوتے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: چرمی جوتا اور ماں کے چھالے
ہیرو: مائی بی بی رشیدہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: شہباز (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.