پرانا چرخہ اور سوت کی ڈور
رات کی سرگوشیاں اور ادھورے خواب
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہر طرف فیکٹریوں کے جدید پلانٹس اور مشینوں کا شور ہوتا ہے، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے لکڑی کے ایک پرانے چرخی پر دن رات سوت کات کر اس کے تن ڈھانپنے کا بندوبست کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی ممتاز کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں لکڑی کے ایک پرانے اور گھسے ہوئے چرکھے کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فواد تھا، جسے مائی بی بی ممتاز نے لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے، خود سردی کی راتوں میں چرخة چلا کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
فواد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے چرکھے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی ممتاز ہر روز شام کو اسی پرانے چرکھے کے پاس بیٹھ جاتی، اس کی مالکن کو ہلکا سا گھماتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا فواد کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس چرکھے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی محنت کی ہر ایک تار یاد رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی ممتاز کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ فواد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فواد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب فواد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے چرکھے کے پاس رکھے ایک صندوق پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی ممتاز کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فواد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس چرکھے کی ہر تار میں تیرے روشن مستقبل کی دعا کاتی ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فواد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے چرکھے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔
کہانی کا نام: پرانا چرخہ اور سوت کی ڈور
ہیرو: مائی بی بی ممتاز (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: فواد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.