Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 71

مٹی کے دیے اور اندھیری رات

بجلی کی روشنی اور پرانا دالان

ماں کی کمزور آنکھیں اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی چکاچوند روشنیوں میں لے جاتی ہے جہاں بڑے بڑے فانوس اس کا مقدر بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے اندھیری راتوں میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے دیے جلا کر اس کی کتابوں پر روشنی کی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی صغرا کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال گھر میں مٹی کے ایک پرانے دیے کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ارشد تھا، جسے مائی بی بی صغرا نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود اندھیرے میں بیٹھ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

ارشد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور ان مٹی کے دیوں کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی صغرا ہر روز شام کو اسی دالان میں مٹی کا ایک دیا جلا دیتی، اس کی لو کو ہوا سے بچاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ارشد کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس دیے کو اس لیے جلاتی تھی تاکہ اس کا بیٹا جب بھی لوٹے تو اسے راستہ ڈھونڈنے میں دشواری نہ ہو، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی صغرا کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ارشد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ارشد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب ارشد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے دیے کے پاس رکھے ایک کاغذ پر اس کی نظر پڑی، جو مائی بی بی صغرا کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ارشد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے راستے کو روشن رکھنے کے لیے ہمیشہ یہ دیا جلایا ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ارشد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے دیے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ دیا ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔

کہانی کا نام: مٹی کے دیے اور اندھیری رات

ہیرو: مائی بی بی صغرا (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: ارشد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments