Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 70

روئی کا تکیہ اور ادھوری رات

پرانا بستر اور ادھورے خواب

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کے ایسے بلند ترین مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں پرتعیش اور نرم گدّے اس کے آرام کا سامان بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے ماضی کے اس پرانے اور ہاتھ کے بنے ہوئے تکیے کو بھول جاتا ہے جس پر سر رکھ کر اس نے بچپن میں سکون کے خواب دیکھے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی عائشہ کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں روئی کے ایک پرانے اور دبے ہوئے تکیے کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا کاشف تھا، جسے مائی بی بی عائشہ نے لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے، خود راتوں کو جاگ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

کاشف جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے تکیے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی عائشہ ہر روز شام کو اسی پرانے تکیے کو اپنے بستر پر سجا لیتی، اسے اپنے سینے سے لگاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا کاشف کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس تکیے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی خوشبو کا احساس ہوتا رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی عائشہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ کاشف جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ کاشف کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب کاشف نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو بستر پر رکھے اسی پرانے تکیے پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی عائشہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے کاشف، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس تکیے پر ہمیشہ تیرے سر کی سلامتی کی دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی کاشف کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے تکیے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

Post a Comment

0 Comments