Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 68

تانبے کا گھڑا اور پیاسی آنکھیں

کنویں کی راہ اور پرانا صحن

ماں کے تھکے قدم اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی معراج پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہر قسم کے واٹر فلٹرز اور لگژری سہولیات اس کے گھر کی زینت بن جاتی ہیں، تو وہ اکثر اپنے ماضی کے اس پرانے اور تانبے کے گھڑے کو بھول جاتا ہے جس کا ٹھنڈا پانی پی کر اس نے گرمیوں کے دن کاٹے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی زینب کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال گھر میں تانبے کے ایک پرانے اور چمکدار گھڑے کے پاس اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فاروق تھا، جسے مائی بی بی زینب نے دور کے کنویں سے روزانہ پانی لا کر، خود پیاسا رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

فاروق جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس تانبے کے گھڑے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی زینب ہر روز شام کو اسی پرانے گھڑے کو بھر کر رکھتی، اس کے اوپر رکھی مٹی کی پیالی صاف کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا فاروق کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس گھڑے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا تھکا ہار کر آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ کا ٹھنڈا پانی پلا سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی زینب کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ فاروق جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فاروق کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب فاروق نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس تانبے کے پرانے گھڑے کے پاس رکھے ایک کاغذ پر اس کی نظر پڑی، جو مائی بی بی زینب کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فاروق، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس گھڑے کو روز تازہ پانی سے بھرا کہ میرا بیٹا کبھی پیاسا نہ رہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فاروق کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے گھڑے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: تانبے کا گھڑا اور پیاسی آنکھیں

ہیرو: مائی بی بی زینب (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: فاروق (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments