روئی کا گدا اور ماں کی یاد
پرانا بستر اور ادھوری راتیں
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی معراج پر پہنچا دیتی ہے جہاں فوم کے مہنگے اور نرم گدّے اس کے آرام کا سامان بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے ماضی کے اس پرانے اور روئی سے بھرے بستر کو بھول جاتا ہے جس پر سو کر اس نے زندگی کے مشکل ترین امتحان پاس کیے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکینہ بی بی کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں روئی کے ایک پرانے اور دبے ہوئے گدّے پر لیٹ کر اپنا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ندیم تھا، جسے مائی سکینہ بی بی نے لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے، خود سردی کی راتوں میں بغیر گرم چادر کے سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
ندیم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے گدّے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی سکینہ بی بی ہر روز شام کو اسی پرانے گدّے پر بیٹھ جاتی، اپنے کانپتے ہاتھوں سے اس کے کونے کو ٹھیک کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ندیم کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس گدّے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا آئے تو وہ اسے اپنے سینے سے لگا سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی سکینہ بی بی کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ندیم جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ندیم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب ندیم نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، তো اس پرانے گدّے کے پاس رکھے ایک پرانے صندوق پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر مائی سکینہ بی بی کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک خوبصورت تکیہ اور اس کے ساتھ ایک کاغذ پر لرزتی ہوئی تحریر رکھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ندیم، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے آرام کے لیے اس پرانے گدّے پر ہمیشہ دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ندیم کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے گدّے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: روئی کا گدا اور ماں کی یاد
ہیرو: مائی سکینہ بی بی (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: ندیم (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.