مٹی کی خوشبو اور پرانا گھر
برسات کی راتیں اور تنہائی
ماں کی دھندلی آنکھیں اور بیٹے کی دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی چکاچوند دنیا میں لے جاتی ہے جہاں بلند و بالا محلات اور قیمتی گاڑیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے کچی مٹی کے گھر میں خود بارش کا پانی اپنے اوپر لے کر اسے محفوظ چھت فراہم کی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی حلیمہ کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال اور کچے مکان میں اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا جمیل تھا، جسے مائی بی بی حلیمہ نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مشقت کر کے، خود سردی اور حبس میں جھیل کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
جمیل جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس کچے گھر کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی حلیمہ ہر روز شام کو اسی کچے آنگن میں بیٹھ جاتی، بارش کے دنوں میں ٹپکتی چھت کے نیچے برتن رکھ دیتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا جمیل کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس گھر کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا آئے تو اسے اپنے بچپن کی مٹی کی خوشبو مل سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی حلیمہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ جمیل جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ جمیل کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب جمیل نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو دیوار کے ساتھ رکھی ایک لکڑی کی تختی پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی حلیمہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے جمیل، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس کچے گھر کی مٹی کو ہمیشہ سنبھال کر رکھا کہ میرا بیٹا کبھی اپنی جڑیں نہ بھولے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی جمیل کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس مٹی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: مٹی کی خوشبو اور پرانا گھر
ہیرو: مائی بی بی حلیمہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: جمیل (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.