نمکین جھیل کا کنارہ اور ٹوٹی ہوئی گڑی
باب اول: سالٹ لیک کی نگری اور امجد کا خاندان
دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں کی زمین اتنی بنجر اور پانی اتنا کھارہ ہوتا ہے کہ وہاں درختوں کے پتے بھی نمک کے بوجھ سے جھک جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک دور افتادہ اور غریب بستی 'کھیوڑا' کے پہاڑی دامن سے دور ایک سنسان علاقے میں بسی تھی، جہاں کی ہواؤں میں بھی ہمیشہ نمک کی کڑواہٹ گھلی رہتی تھی۔ اسی بستی کے ایک سرے پر مٹی اور سرکنڈوں سے بنی ایک خستہ حال جھونپڑی تھی، جہاں پینتالیس سالہ امجد اپنی بیمار بیوی زہرا اور آٹھ سالہ بیٹی مریم کے ساتھ رہتا تھا۔
امجد اس پتھریلی زمین پر دن بھر پسینہ بہاتا تھا۔ وہ نمک کی چھوٹی کان میں مزدوری کرتا تھا—صبح سویرے اندھیرے میں اٹھ کر پہاڑ کی گہرائیوں میں اترنا، ہتھوڑے سے سفید پتھر توڑنا اور شام کو ان کی مزدوری میں اتنے چند سکے لانا جن سے مشکل سے ایک وقت کا آٹا اور جلانے کے لیے کچھ سوکھی لکڑیاں آسکیں۔ زہرا پچھਲੇ دو سال سے تپ دق (TB) اور شدید کھانسی کا شکار تھی، بستر سے اٹھنے کی سکت اس میں باقی نہیں رہی تھی۔ گھر کا سارا بوجھ اب اس معصوم بچی مریم کے ناتواں کندھوں پر تھا۔
مریم ایک نہایت ہی حسین اور سلیقہ مند بچی تھی، جس کی بڑی بڑی آنکھوں میں بچپن کی شادابی کی بجائے ایک گہری فکرمندی بسی رہتی تھی۔ اس کے پاس کھیلنے کے لیے کوئی کھلونا نہیں تھا، سوائے ایک پرانی گڑی کے جسے اس کے باپ نے کپڑے کے ٹکڑوں اور روئی سے بڑی محنت سے بنایا تھا—مگر اس گڑی کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی اور اس کی آنکھ کا بٹن غائب ہو چکا تھا۔ مریم اس ٹوٹی ہوئی گڑی کو اپنی سہیلی مانتی تھی، اس سے باتیں کرتی اور کہتی: "تم اداس مت ہو، جب بابا کو زیادہ پیسے ملیں گے، تو میں تمہاری ٹانگ بھی ٹھیک کرا دوں گی اور نیا فراک بھی لوں گی!"
باب دوم: نومبر کی تیز ہوائیں اور ادویات کا ختم ہونا
نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی موسم نے ایک ہولناک کروٹ لی۔ تیز، یخ بستہ ہوائیں چلنے لگیں جو جھونپڑی کے سوکھے پتوں اور دراڑوں سے گزر کر اندر بیٹھے لوگوں کی ہڈیوں تک کو جما دیتی تھیں۔ زہرا کی کھانسی اس طوفانی موسم میں مزید بگڑ گئی۔ اس کے سینے سے ہوٹ اٹھنے لگے اور منہ سے خون کی ہلکی پھوار آنے لگی۔
گھر میں رکھی آخری گولی اور شربت کی شیشی بھی اب بالکل خالی ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر زہرا کو مہنگے ٹیکے اور مسلسل گرم غذا نہ ملی، تو وہ اس سردی کی راتیں نہیں دیکھ پائے گی۔ امجد نے اپنا پرانا کوٹ گروہ میں رکھنے کے لیے بستی کے سیٹھ کے پاس گیا، مگر سیٹھ نے پہلے ہی پرانے ادھار کا حوالہ دے کر اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔
اس رات جھونپڑی میں چولہا نہیں جلا۔ باہر بارش اور تیز ہوا کا شور تھا، اور اندر زہرا درد سے کراہ رہی تھی۔ مریم نے اپنی ماں کے سرد پڑتے ہاتھوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں لے کر دبایا اور روتے ہوئے بولی:
"اماں! تم آنکھیں بند مت کرو... بابا ابھی شہر سے کوئی اچھی دوا لے کر آتے ہوں گے... دیکھو نا، میں نے اپنی گڑی کو بھی تمہارے پاس لٹا دیا ہے، یہ تمہیں درد سے بچائے گی!"
زہرا نے اپنی ناتواں انگلیاں مریم کے بالوں میں پھیریں اور بمشکل سرگوشی کی: "میری بچی... معاف کر دینا، میں تمہیں کوئی سکھ نہیں دے سکی..." اور اسی کے ساتھ زہرا کی ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور اس کی سانسیں ہمیشہ کے لیے تھم گئیں۔ جھونپڑی میں ایک قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔ مریم اور امجد دونوں لاش سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔
باب سوم: آخری قرض اور بستی کے سنگدل لوگ
ماں کے جنازے کے لیے بھی امجد کو بستی کے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑے۔ کسی نے ترس کھا کر چار تختے اور کفن کے لیے دو پرانے کپڑے دے دیے، مگر اس احسان کے بدلے میں بستی کے زمیندار نے امجد کو خبردار کیا کہ اب وہ جلد از جلد یہ جھونپڑی خالی کر دے کیونکہ زمین کا وہ ٹکڑا اب اس کا نہیں رہا۔
زہرا کے جانے کے بعد امجد اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ اس کی آنکھوں کی روشنی جیسے کہیں گم ہو گئی تھی۔ وہ سارا دن نمک کی کان میں پتھر توڑتا رہتا اور شام کو خالی ہاتھ لوٹتا۔ مریم اب اکیلی اس سنسان جھونپڑی میں بیٹھ کر اپنی ٹوٹی ہوئی گڑی سے باتیں کرتی رہتی۔ گھر میں فاقوں کا راج تھا—کئی کئی دن تک چولہا نہیں جلتا تھا، اور وہ نمک ملے پانی سے اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور تھے۔
ایک شام جب امجد کام سے لوٹا، تو اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ کان کے اندر ایک بھاری چٹان کا تودہ گرنے سے اس کا بازو شدید زخمی ہو چکا تھا اور وہ بمشکل چل پا رہا تھا۔ اس نے مریم کو دیکھا جو بھوک سے نڈال ہو کر کونے میں پڑی تھی، تو اس کے منہ سے ایک دردناک سسکی نکل گئی۔ اس نے اپنے زخمی بازو کو چھوا اور سوچا کہ اب وہ اس دنیا میں اپنی بیٹی کو کیا دے گا؟
باب چهارم: رات کا اندھیرا اور گھر سے بے دخلی
اگلی ہی صبح، جب سورج ابھی نکلا بھی نہیں تھا، زمیندار کے دو کارندے ڈنڈے لے کر ان کی جھونپڑی پر آ دھمکے۔ انہوں نے امجد کے ہاتھ پکڑ کر اسے اور مریم کو دھکے دے کر باہر سڑک پر نکال دیا۔ ان کا وہ چھوٹا سا سامان—دو پرانے برتن، ایک پھٹا ہوا کمبل اور مریم کی وہ ٹوٹی ہوئی گڑی—انہوں نے مٹی میں پھینک دیا۔
امجد نے زخمی حالت میں زمیندار کے پاؤں میں گر کر التجا کی: "خدا کے لیے ہمیں دو دن کی مہلت دے دو! میری بچی بیمار ہے، یہ بارش میں کہاں جائے گی؟" مگر ان سنگدل لوگوں کے دلوں پر جیسے پتھر پڑ چکے تھے، انہوں نے ایک نہ سنی اور جھونپڑی کو آگ لگانے کی دھمکی دے کر وہاں سے چلے گئے۔
امجد اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا کر قریب ہی ایک پرانے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ایک بار پھر ہولناک سرد بارش شروع ہو گئی تھی۔ مریم نے اپنے باپ کے سینے سے سر لگایا اور مدہم آواز میں بولی:
"بابا! مجھے بہت سرد کیا لگ رہی ہے... کیا ہم اماں کے پاس جا رہے ہیں؟ میں نے اپنی ٹوٹی ہوئی گڑی بھی سنبھال کر رکھی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ چلے گی نا؟"
امجد کے پاس اس معصوم سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر مریم کے چہرے پر گرنے لگے۔ اس نے اپنی بیٹی کو اپنے پھٹے ہوئے کوٹ میں چھپانے کی آخری کوشش کی، مگر وہ یخ بستہ بارش اور بھوک ان دونوں کی جان کو گھلاتی جا رہی تھی۔
باب پنجم: بارش کا تھمنا اور ابدی سکوت
صبح کے وقت جب بستی کے لوگوں نے بارش تھمنے کے بعد اس درخت کی طرف دیکھا، تو وہاں ایک انتہائی ہولناک منظر ان کا منتظر تھا۔
امجد اور مریم دونوں درخت کے نیچے ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ابدی نیند سو چکے تھے۔ ان کے جسم سردی کی شدت سے بالکل پتھر بن چکے تھے۔ مریم کے چھوٹے سے سخت جکڑے ہوئے ہاتھ میں اب بھی وہ ٹوٹی ہوئی کپڑے کی گڑی موجود تھی، جس کی سلائی بارش کے پانی میں کھل چکی تھی، مگر اس کے باوجود مریم کی انگلیاں اس سے لپٹی ہوئی تھیں۔
کوئی رونے والا نہیں تھا، کوئی پرسہ دینے والا نہیں تھا—بس وہ نمکین ہوا اس بنجر زمین پر چل رہی تھی جیسے اس المناک انجام کا ماتم کر رہی ہو۔
باب ششم: نمکین جھیل کی سرگوشی
اس حادثے کے بعد بستی کے لوگوں نے زمیندار کے خوف سے دونوں باپ بیٹی کو وہیں اسی بنجر زمین میں دفن کر دیا، اور ان کی قبر پر کوئی کتبہ تک نہیں لگایا گیا۔
آج بھی کھیوڑا کے اس علاقے میں جب رات کے وقت سرد ہوائیں چلتی ہیں، تو وہاں کے پرانے لوگ کہتے ہیں کہ نمkan جھیل کے کنارے سے ایک معصوم بچی کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے: "بابا! اب ہمیں کبھی بھوک نہیں لگے گی نا؟" یہ کہانی اس سنگدل معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو غریب کے پسینے کی کمائی تو نچوڑ لیتا ہے، مگر اسے زندہ رہنے کے لیے دو گز زمین اور عزت کی روٹی نہیں دیتا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.