Urdu Kahania -Digital Kahani -Gulab ka Sokha Phool

ٹوکیو کی برف اور گلاب کا سوکھا پھول

ایک جگر دوز، دل دہلا دینے والی اور روح کو چیر دینے والی داستان | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: شینجیوکو کے پرانے اپارٹمنٹ اور ہیروکی کی دنیا

جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو دنیا کے ان شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ترقی کی دوڑ کبھی نہیں رکتی۔ یہاں ہر طرف نیون لائٹس، تیز رفتار ٹرینیں اور کروڑوں لوگوں کی گہما گہمی نظر آتی ہے۔ مگر اس چمکتے دمکتے شہر کی ایک تاریک اور سنسان گلی بھی ہے، جہاں غریب تارکینِ وطن یا ایسے لوگ بستے ہیں جو معاشرے کی تیز رفتار چکی میں پس کر اکیلے رہ جاتے ہیں۔ شینجیوکو کے ایک پرانے اور بوسیدہ اپارٹمنٹ کی سب سے اوپر والی منزل پر سسٹٹھ سالہ ہیروکی اور اس کی سات سالہ پوتی آئکا رہتے تھے۔

ہیروکی کی زندگی المناک سانحات کا مجموعہ تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا اور بہو ٹوکیو کی ایک فیکٹری میں گیس لیک ہونے کے حادثے میں اس دنیا سے کوچ کر چکے تھے، اور حکومت یا فیکٹری کے مالکان نے قانونی پیچیدگیوں کا بہانہ بنا کر ایک ین کا بھی معاوضہ نہیں دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہیروکی نے اپنی عمر کے اس حصے میں بھی رات گئے سڑکوں پر صفائی کا کام کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ اپنی پوتی آئکا کو دو وقت کی روٹی اور ایک چھت فراہم کر سکے۔

آئکا ایک انتہائی خوبصورت، حساس اور فنکارانہ مزاج کی بچی تھی۔ اسے پھولوں سے بہت محبت تھی، خاص طور پر سرخ گلابوں سے۔ ہیروکی کے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہوتے تھے کہ وہ اصلی گلاب خرید سکے، اس لیے وہ سڑک پر گرے ہوئے پرانے کاغذات سے رنگ برنگے گلاب بنا کر آئکا کے لیے لاتا تھا۔ آئکا ان کاغذی گلابوں کو اپنے کمزور ہاتھوں سے جوڑتی اور کہती: "دادا جان! جب میں بڑی ہوں گی, تو ہمارے گھر کے باہر ایک اصلی گلابوں کا باغیچہ ہو گا جہاں کبھی سردی نہیں آئے گی!"

باب دوم: جنوری کی برفباری اور ہیروکی کی بیماری

جنوری کا مہینہ شروع ہوتے ہی ٹوکیو میں شدید برفباری کا آغاز ہو گیا۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے گر چکا تھا اور سرد ہوائیں ہڈیوں کو چیرتی ہوئی گزرتی تھیں۔ اپارٹمنٹ کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جنہیں ہیروکی نے پرانے اخبارات اور پلاسٹک سے بند کر رکھا تھا، مگر یخ بستہ ہوائیں اندر آنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ ہی لیتی تھیں۔

گھر میں جلانے کے لیے نہ ہی کوئی ہیٹر تھا اور نہ ہی زیادہ کمبل۔ ہیروکی کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی تھی۔ شدید سردی میں رات بھر سڑک پر برف صاف کرنے کی وجہ سے اس کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو چکا تھا اور اسے مسلسل خونی کھانسی آ رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود وہ صبح سویرے اٹھ کر کام پر چلا جاتا کیونکہ اگر وہ ایک دن بھی نہ جاتا، تو اگلے دن ان کے لیے چولہا جلانا ناممکن ہو جاتا۔

ایک شام جب ہیروکی کام سے واپس لوٹا، تو اس کا سارا جسم بخار سے تپ رہا تھا اور اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ آئکا نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے گیلا تولیہ لے کر اپنے دادا کی پیشانی پر رکھا اور روتے ہوئے بولی:

"دادا جان! آپ آج کام پر مت جائیں... آپ بہت بیمار لگ رہے ہیں۔ میرے پاس کل کی بچی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا ہے، ہم وہ بانٹ کر کھا لیں گے... آپ بس سو جائیں!"

ہیروکی نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے آئکا کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بمشکل مسکرا کر کہا: "میری بچی! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ صبح ہوتے ہی میں تجھ کے لیے وہ سرخ گلاب لے کر آؤں گا جو تو نے مانگا تھا..."

باب سوم: مالکِ مکان کا نوٹس اور سفاک حقیقت

اگلی صبح جب ہیروکی بستر سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، تو اپارٹمنٹ کے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ یہ عمارت کا مینیجر تاکاہاشی تھا، جو ہر ماہ کی طرح اس بار بھی کرایہ لینے آیا تھا، حالانکہ ہیروکی پچھلے دو ماہ کا کرایہ ادا نہیں کر پایا تھا۔

تاکاہاشی نے غصے سے دروازہ دھکیلا اور سخت لہجے میں کہا: "ہیروکی سان! تم پچھلے ساٹھ دن سے بہانے بنا رہے ہو۔ اگر آج شام تک پورا کرایہ ادا نہیں کیا، تو میں پولیس کو بلا کر تم دونوں کو اس کمرے سے باہر نکال دوں گا! یہ کوئی خیراتی گھر نہیں ہے!"

ہیروکی تاکاہاشی کے پیروں میں بیٹھ گیا اور روتے ہوئے التجا کی کہ اسے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی جائے، مگر تاکاہاشی نے ایک نہ سنی اور دھمکی دیتا ہوا چلا گیا۔ ہیروکی کی جیب میں اس وقت کل ملا کر اتنے ین بھی نہیں تھے کہ وہ ایک وقت کی دوا خرید سکے۔

وہ بیمار حالت میں، برف باری کے درمیان ایک بار پھر سڑکوں پر نکل گیا تاکہ کہیں سے کوئی مزدوری مل سکے۔ مگر اس برفانی طوفان میں سڑکیں بالکل سنسان تھیں اور تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں۔

باب چہارم: برف کا طوفان اور ادھورا وعدہ

اپارٹمنٹ کے اندر اکیلی بیٹھی آئکا جب بہت دیر تک اپنے دادا کے واپس نہ آنے پر گھبرا گئی، تو اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ باہر سفید برف کا طوفان پوری شدت سے ناچ رہا تھا اور دور دور تک کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

آئکا نے اپنے پرانے جوتے پہنے، گلے میں ایک پھٹا ہوا مفلر لپیٹا اور دادا کی تلاش میں اس برفانی طوفان کے اندر باہر نکل گئی۔ اس کے معصوم دل میں بس ایک ہی بات تھی کہ اس کے دادا بیمار ہیں اور شاید وہ راستے میں کہیں گر گئے ہوں گے۔ وہ گلی گلی گھومتی رہی، اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں برف میں سن ہو چکے تھے اور اس کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے، مگر ہیروکی کا کہیں کوئی پتہ نہیں تھا۔

کچھ ہی فاصلے پر، ایک پرانے پارک کے کونے میں، ہیروکی کا بے جان جسم برف میں گرا ہوا ملا—وہ سڑک صاف کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے اور شدید سردی کے باعث وہیں دم توڑ چکا تھا، اور اس کے سخت جکڑے ہوئے ہاتھ میں کاغذی گلابوں کا وہ گچھا تھا جو وہ آئکا کے لیے بنا کر لا رہا تھا!

باب پنجم: برف کا کفن اور ابدی خاموشی

جب امدادی رضاکار اور پولیس اس مقام پر پہنچی، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی بچی اپنے دادا کے مردہ جسم سے لپٹی ہوئی زور زور سے سسک رہی ہے اور اس کے ہاتھ میں وہ کاغذی گلاب بکھرے پڑے ہیں جن پر برف گر کر ان کے رنگ کو گڑھا کر چکی تھی۔

آئکا بھی شدید سردی اور صدمے کی وجہ سے نیم بے ہوش ہو چکی تھی۔ اس کی آخری سسکی اس فضامیں گونجی: "دادا جان... اٹھیں نا! آپ تو میرے لیے گلاب لانے والے تھے..." مگر اب وہاں صرف سرد ہواؤں کا شور تھا اور ٹوکیو کی بے حس گلیاں تھیں۔

باب ششم: ٹوکیو کی رات اور کبھی نہ مرنے والی یاد

اس حادثے کے بعد ٹوکیو کے اخبارات میں ایک چھوٹا سا کالم چھپا کہ کس طرح ایک بوڑھا شخص اور اس کی پوتی اس مادی معاشرے کی سرد مہری کی بھینٹ چڑھ گئے۔

آج بھی شینجیوکو کی ان گلیوں میں جب جنوری کی سرد راتوں میں برفباری ہوتی ہے، تو وہاں کے پرانے لوگ کہتے ہیں کہ پارک کے اس کونے میں ایک معصوم بچی کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنے دادا سے کہتی ہے: "دادا جان! کیا اب ہمارے پاس اصلی گلابوں کا باغیچہ ہے؟" یہ کہانی اس دنیا کے منہ پر ایک کرارا طمانچہ ہے جہاں ترقی کی بلند عمارتوں کے سائے میں غریب انسان کی زندگی اور اس کے خواب برف تلے دفن ہو جاتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments