Urdu Kahania -Digital Kahani -Greash Ki Duniya

دریائے رائن کا پل اور ادھورا خط

ایک روح فرسا، جگر چیر دینے والی اور دل کو دہلا دینے والی داستان | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: کولون کا پرانا کوارٹر اور گریس کی دنیا

جرمنی کا تاریخی شہر کولون اپنی عظیم الشان گوتھک عمارتوں، فنِ تعمیر اور دریائے رائن کے نیلگوں کناروں کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں کے کیتھیڈرل کے سائے میں ہر سال لاکھوں سیاح روشنیاں دیکھنے آتے ہیں، مگر اس روشن شہر کے پرانے صنعتی کوارٹر کے ایک بوسیدہ تہہ خانے میں غربت کا ایک ایسا اندھیرا بسا تھا جہاں سورج کی کرنیں کبھی داخل نہیں ہوتی تھیں۔ اسی تہہ خانے میں اونسٹھ سالہ بڑھیا گریس اپنے چھ سالہ پوتے میتھیو کے ساتھ زندگی کے دن کاٹ رہی تھی۔

گریس کی زندگی دکھوں اور سانحات کا ایک طویل سلسلہ تھی۔ اس کی اکلوتی بیٹی اور داماد ایک خوفناک کار حادثے میں اس وقت لقمہ اجل بن گئے تھے جب میتھیو محض ایک سال کا تھا۔ اس کے بعد سے گریس نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے، ہوٹلوں کی راہداریوں میں صفائی کرنے اور پرانے کھلونے مرمت کرنے کا کام کر کے اپنے پوتے کو پالا تھا۔ گریس کے گھٹنے کی ہڈی ایک پرانے حادثے کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے چلتے وقت اس کا ایک پاؤں زمین پر گھسٹتا تھا، مگر اس کے باوجود وہ دن بھر برف اور بارش میں بھی کام کی تلاش میں مار مار پھرتی تھی۔

میتھیو ایک انتہائی خوبصورت، معصوم اور ذہین بچہ تھا جس کی سنہری زلفیں اور نیلی آنکھیں دیکھ کر کسی کا بھی دل پسیج جاتا تھا۔ اسے رنگوں سے کھیلنے اور پینٹنگ کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا، مگر گریس کے پاس کاغذ خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ میتھیو پرانے اخبارات کے حاشیوں پر کوئلے کے ٹکڑے سے تصویریں بنایا کرتا تھا۔

باب دوم: نومبر کی یخ بستہ ہوائیں اور بے بسی

اس سال یورپ میں موسمِ سرما اپنے ساتھ ایک غیر معمولی یخ بستہ طوفان لے کر آیا تھا۔ درجہ حرارت منفی پندرہ ڈگری تک گر چکا تھا اور دریائے رائن کا پانی کنارے کے قریب جمنے لگا تھا۔ تہہ خانے میں لکڑی کا چھوٹا سا ہیٹر تھا، مگر اسے جلانے کے لیے گریس کے پاس کوئلے یا لکڑی کے ٹکڑے خریدنے کے لیے ایک بھی پینی نہیں تھی۔

رات کے وقت جب باہر برفباری تیز ہو جاتی، تو گریس اور میتھیو ایک ہی پرانے، پھٹے ہوئے کمبل میں لپٹ کر ایک دوسرے کے جسم کی حرارت سے خود کو گرم رکھنے کی کوشش کرتے۔ میتھیو کا چھوٹا سا جسم بخار اور سردی سے کانپتا رہتا تھا۔ ایک رات جب میتھیو کی کھانسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی، تو اس نے اپنی دادی کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور مدہم آواز میں پوچھا:

"دادی! کیا اس سال کرسمس پر سانتا کلاز ہمارے گھر بھی آئے گا؟ میں نے اس کے لیے ایک خط لکھا ہے... میں نے اس سے کوئی مہنگا کھلونا نہیں مانگا، بس کہا ہے کہ ہمیں تھوڑا سا کوئلہ اور ایک گرم سوپ دے جائے، تاکہ آپ کی ٹانگ کا درد ٹھیک ہو جائے..."

گریس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر میتھیو کے بالوں پر گر پڑے۔ اس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پوتے کے ماتھے کو چھوا تو وہ تپ رہا تھا۔ گریس نے اپنے دل کو مضبوط کرتے ہوئے جھوٹ بولا: "ہاں میرے بچے! سانتا کلاز سب کے گھر جاتا ہے... وہ کل رات ضرور آئے گا!"

باب سوم: مالکِ مکان کی آخری وارننگ

صبح ہوتے ہی گریس درد سے کراہتی ہوئی بستر سے اٹھی۔ اسے دو ماہ کا کرایہ ادا کرنا تھا اور تہہ خانے کا مالک ہنس (Hans) ایک بے رحم اور سخت مزاج شخص تھا جو قانون کے نام پر غریبوں کو سڑک پر پھینکنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتا تھا۔ ہنس نے صبح سویرے دروازے پر دستک دی اور سرد لہجہ میں کہا:

"گریس! آج شام تک کرایہ دو، ورنہ اپنا بستر باندھو اور اس تہہ خانے سے باہر نکل جاؤ! میں مزید فاقہ مستی برداشت نہیں کر سکتا!"

گریس نے اس کے پیروں میں گر کر التجا کی، رو رو کر کہا کہ اسے دو دن کی مہلت دی جائے، مگر ہنس نے ایک نہ سنی اور دروازے پر تالا ڈالنے کی دھمکی دے کر چلا گیا۔ گریس کے پاس اس وقت کل جمع پونجی کے نام پر صرف چند سکے تھے جو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔

وہ مجبوراً میتھیو کو کمبل میں لپیٹ کر تہہ خانے میں اکیلا چھوڑ گئی اور شہر کے مرکزی بازار میں کام کی تلاش میں نکل گئی تاکہ کوئی اسے صفائی کے بدلے چند یورو دے دے۔ مگر اس کرسمس کی خریداری میں مصروف دنیا میں کس کے پاس ایک غریب بڑھیا کے لیے وقت تھا؟ سب اپنی دنیا میں مگن تھے۔

باب چہارم: برفانی طوفان اور ادھورا خط

دوپہر ڈھلتے ڈھلتے آسمان سے سرمئی بادلوں نے گرجنا شروع کر دیا اور ایک شدید برفانی طوفان (Blizzard) نے پورے کولون کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سڑکیں سنسان ہو گئیں اور پولیس نے لوگوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کر دی۔

تہہ خانے میں اکیلے بیٹھے میتھیو کو جب شدید سردی اور خوف محسوس ہوا، تو اس نے دیوار کے کونے میں بیٹھ کر اپنے اس خط کو دوبارہ نکالا جو اس نے سانتا کلاز کے لیے لکھا تھا اور اس کے نیچے ایک تصویر بنائی جس میں وہ اور اس کی دادی ایک گرم گھر کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس کی انگلیاں سردی سے سن ہو رہی تھیں، مگر وہ لکھتا جا رہا تھا: "سانتا! اگر تم آؤ، تو دادی کو مت جگانا، وہ بہت تھک گئی ہیں... بس ہمارے دروازے پر تھوڑی سی لکڑی چھوڑ دینا..."

اچانک تہہ خانے کی پرانی کھड़की کا شیشہ طوفان کے دباؤ سے ٹوٹ گیا اور برف کے یخ بستہ ریلے اندر آ کر میتھیو کے بستر پر گرنے لگے۔ معصوم بچہ گھبرا کر اٹھا، دروازے کی طرف بھاگا، مگر باہر سے مالکِ مکان ہنس نے غصے میں آ کر دروازے پر باہر سے کنڈی لگا دی تھی تاکہ وہ کرایہ دیے بغیر بھاگ نہ سکیں!

باب پنجم: واپسی اور قیامت کا منظر

شाम کے وقت جب گریس برف میں پھسلتی ہوئی، کانپتی حالت میں گھسٹتے ہوئے اپنے تہہ خانے تک پہنچی، تو اس کا دل دہل گیا۔ تہہ خانے کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے برف اندر جا رہی تھی اور اندر سے کسی بچے کے رونے کی آواز تک نہیں آ رہی تھی۔

گریس نے پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹا اور چلائی: "میتھیو! میرے بچے! دروازہ کھول..."

جب آس پاس کے لوگوں نے اور مالکِ مکان نے آ کر زبردستی دروازہ توڑا، تو اندر کا منظر دیکھ کر پتھر دل انسان بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ میتھیو اپنے پرانے کمبل میں سمٹ کر کونے میں لیٹا ہوا تھا—اس کا جسم سردی کی شدت سے بالکل منجمد ہو چکا تھا، اور اس کے چھوٹے سے ہاتھ میں وہ کاغذ کا خط مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا جس پر اس نے سانتا کلاز سے مدد مانگی تھی!

میتیو کی معصوم نیلی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، اور وہ اس ظالم دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اس کی روح اس سردی سے آزاد ہو کر اس جہان میں جا چکی تھی جہاں بھوک تھی اور نہ ہی بے حسی!

باب ششم: دریائے رائن کے کنارے ابدی خاموشی

گریس نے اپنے پوتے کے لاشے کو گود میں اٹھایا، کوئی چیخ نہیں ماری، کوئی گلہ نہیں کیا۔ وہ لنگڑاتے ہوئے قدموں سے چلتی ہوئی دریائے رائن کے اس پرانے پل پر پہنچی جہاں سے پورا کولون شہر روشنیاں بکھیر رہا تھا۔ اس نے میتھیو کے بے جان جسم کو اپنے سینے سے لگایا اور وہ ادھورا خط ہوا میں لہرا دیا۔

اگلی صبح پولیس کو دریائے رائن کے کنارے گریس کا خالی کوٹ اور وہ خط ملا، جبکہ گریس کی لاش پانی کی گہرائیوں میں اپنے پوتے کے ساتھ ابدی نیند سو چکی تھی۔

آج بھی کولون کی ان گلیوں میں جب کرسمس کی روشنیاں جلتی ہیں اور لوگ تحفے بانٹتے ہیں، تو مقامی لوگ کہتے ہیں کہ دریائے رائن کے پل پر ایک بچے کی سرگوشی سنائی دیتی ہے: "سانتا! کیا تم اس بار ہمارے لیے تھوڑا سا کوئلہ لائے ہو؟" یہ کہانی اس مادیت پرست دنیا کے منہ پر ایک گہرا طمانچہ ہے جو غریب کے انسوؤں اور بچوں کی معصوم آہوں پر اپنے جشن کی بنیاد رکھتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments