Urdu Kahania -Digital Kahani -Driya Sindh ka pul

دریائے سندھ کا پل اور ادھورا کفن

ایک روح فرسا، جگر چیر دینے والی اور سچی مٹی کی داستان | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: میانوالی اور کالاباغ کا سنگم

کوہِ سلیمان کی پتھریلی گود سے نکل کر جب دریائے سندھ میانوالی کی زرخیز لیکن غریب بستیوں کے پاس سے گزرتا ہے، تو اس کے پانیوں میں ایک عجیب سا اداس شور ہوتا ہے۔ یہ شور ان ہزاروں کہانیوں کا ہے جو اس مٹی میں دفن ہو چکی ہیں۔ اسی دریائے سندھ کے ایک پرانے بند کے کنارے مٹی اور سرکنڈوں سے بنی ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی، جہاں اسی سالہ بابا الٰہی بخش اور ان کی بیمار بیوی بخت بھری بسترِ مرگ پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔

بابا الٰہی بخش کی زندگی سارا سال پتھر توڑنے، ریت چھاننے اور کھیتوں میں مزدوری کرتے کرتے گزری تھی۔ ان کے پاس دنیا بھر کی پونجی کے نام پر صرف دو بیٹے تھے—بڑا بیٹا اکبر اور چھوٹا بیٹا اصغر۔ اکبر جب بیس سال کا تھا تو بستی کے حالات اور بھوک کے عذاب سے تنگ آ کر بغیر بتائے گھر سے نکل گیا تھا اور بستی والوں کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کی کسی مچھلی کی فیکٹری میں مزدوری کرنے چلا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا، نہ کوئی خط بھیجا اور نہ ہی ماں باپ کی کوئی خبر لی۔

گھر کا سارا بوجھ اب چھوٹے بیٹے اصغر پر تھا۔ اصغر ایک نٹ کھٹ، محنتی اور ماں باپ کا فرمانبردار جوان تھا۔ وہ دن بھر کھیتوں میں پسینہ بہاتا اور شام کو جو مزدوری ملتی، اس سے ماں کے لیے درد کی گولیاں اور ابّا کے لیے خشک روٹی لے کر آتا۔ مگر کہتے ہیں نا کہ غریب کی زندگی پر جب آسمان کی مار پڑتی ہے، تو وہ چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے۔ اصغر کو جگر کی موذی بیماری نے گھیر لیا۔ علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اور جیب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔

باب دوم: اصغر کی ہچکیاں اور ساہوکار کا دروازہ

ایک کڑکتی ہوئی سرد رات جب دریائے سندھ کی طرف سے آنے والی ہوا جھونپڑی کے سوکھے پتوں کو ہلا رہی تھی، اصغر چار پائی پر لیٹا خون کی الٹیاں کر رہا تھا۔ بخت بھری بیٹیوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں اور بابا الٰہی بخش اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھے اس کے ماتھے پر گیلا کپڑا رکھ رہے تھے۔ اصغر نے ہچکیوں کے درمیان بمشکل اپنی ماں کے ہاتھ کو پکڑا اور کہا:

"اماں... لگتا ہے میرا سانس اب رکنے والا ہے۔ مجھے معاف کر دینا... میں تمہیں پکے گھر کا خواب دکھا کر خود اس کچی مٹی میں جا رہا ہوں۔ ابّا سے کہنا کہ میرے کفن کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں، میرا وہی پرانا کرتے کا کپڑا دھو کر کفن لینا۔"

اصغر کی یہ بات سن کر بابا الٰہی بخش کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ وہ آدھی رات کو اٹھ کر بستی کے ظالم ساہوکار چوہدری کرم دین کے دروازے پر پہنچے۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر، اپنی پگڑی اس کے قدموں میں رکھ کر صرف دو ہزار روپے ادھار مانگے تاکہ بیٹے کی دوا آ سکے یا کم از کم درد کی ایک خوراک مل جائے۔ مگر ساہوکار نے حقارت سے ٹھوکر مار کر ان کی پگڑی ہٹا دی اور کہا: "پہلے پچھلا قرضہ اتارو، پھر مرتے ہوئے بیٹے کی بھیک مانگنا!"

بابا الٰہی بخش روتے ہوئے خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ جب وہ جھونپڑی میں پہنچے، تو اصغر کی سانسوں کی ڈور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ چکی تھی۔ گھر میں ماتم برپا ہو گیا۔ نہ دوا کے لیے پیسے تھے اور نہ ہی کفن کے لیے ایک گز سفید کپڑا۔ بخت بھری بی بی اپنے بیٹے کے لاشے پر سر رکھ کر ایسے روئیں کہ ان کی اپنی عقل بھی رخصت ہونے لگی۔

باب سوم: ادھورا کفن اور بستی کی بے حسی

بستی کے چند غریب لوگوں نے ترس کھا کر پرانے کپڑے جوڑ توڑ کر ایک ادھورا سا کفن تیار کیا، جس میں اصغر کے پاؤں ننگے رہ گئے کیونکہ کپڑا کم پڑ گیا تھا۔ جب جنازہ اٹھنے لگا، تو بخت بھری بی بی نے پاگلوں کی طرح چلا کر کہا: "میرے بچے کے پاؤں سرد ہوں گے... اسے ڈھانپ دو! کوئی میرا دوپٹہ پھاڑ کر اس کے پیروں پر لپیٹ دو!"

اصغر کو دریا کے کنارے ایک چھوٹی سی قبر میں دفنا دیا گیا۔ اس دن کے بعد سے بخت بھری بی بی کی عقل پر پردہ پڑ گیا۔ وہ ہر روز صبح اٹھتی، دریائے سندھ کے پل پر جاتی اور آنے جانے والے ہر شخص سے پوچھتی: "تم نے میرے اکبر کو دیکھا ہے؟ میرا اکبر شہر سے آنے والا ہے... وہ میرے اصغر کے کفن کے لیے پورا کپڑا لائے گا..." لوگ ان کی حالت پر روتے اور منہ پھیر کر گزر جاتے۔ بابا الٰہی بخش اندر سے بالکل ٹوٹ چکے تھے۔ وہ دن بھر اصغر کی قبر پر بیٹھے رہتے اور مٹی کو چھو چھو کر روتے رہتے۔

باب چہارم: کراچی سے آنے والا مسافر

ٹھیک ایک سال بعد، جب دسمبر کی کڑاکے کی سردی بستی کو جما رہی تھی، کراچی سے آنے والی ایک پرانی بس میانوالی کے اڈے پر رکی۔ اس بس سے ایک ادھیڑ عمر شخص اترا؛ اس کے بال سفید ہو چکے تھے، چہرے پر جھریوں کا جال تھا اور ہاتھ میں ایک پھٹا ہوا تھیلا تھا۔ یہ بڑا بیٹا اکبر تھا!

اكبر کو بیس سال بعد اچانک ماں باپ اور بھائی کی یاد کیوں آئی؟ بات یہ تھی کہ کراچی میں ایک بڑی فیکٹری کے حادثے میں اس کے دونوں بازو مشروط طور پر ضائع ہو چکے تھے، وہ اب اپاہج ہو چکا تھا اور اسے شہر کے لوگوں نے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔ مرنے سے پہلے انسان کو ہمیشہ اپنے اصل گھر اور ماں کی گود ہی یاد آتی ہے۔ اکبر بھی اسی ندامت کے بوجھ تلے دبا ہوا، بھیک مانگتا ہوا اور ٹرینوں کے ڈبوں میں دھکے کھاتا ہوا اپنے گاؤں کی طرف لوٹا تھا۔

وہ لنگڑاتا ہوا، کانپتے قدموں سے جب دریا کے کنارے اپنی پرانی جھونپڑی کی طرف بڑھ رہا تھا، تو اس کے دل میں ایک ہی ڈر تھا کہ کیا ماں باپ اسے معاف کریں گے؟ کیا چھوٹا بھائی اصغر اسے گلے لگائے گا؟

باب پنجم: جھونپڑی کا ویرانہ اور قیامت کا منظر

جب اکبر جھونپڑی کے قریب پہنچا، تو اسے دروازے پر کوئی تالا نظر نہیں آیا، بلکہ دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر سے صغراں بی بی قرآن پاک کی تلاوت کی دھیمی آواز میں سسکیاں لے رہی تھیں۔ اکبر گھبرا کر اندر داخل ہوا۔

اندر کا منظر دیکھ کر اس کا دل بند ہونے لگا۔ کونے میں بابا الٰہی بخش ایک لاش کے پاس بیٹھے پتھر بنے ہوئے تھے—وہ بخت بھری بی بی کا بے جان جسم تھا، جو صدمے اور بھوک کی وجہ سے چند لمحے پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں! ان کے سینے پر ایک پرانی چادر پڑی تھی اور پاس ہی اصغر کی ٹوٹی ہوئی تصویر رکھی تھی۔

اكبر دھڑام سے زمین پر گر پڑا اور اپنی ماں کے پیروں سے لپٹ کر چیخ اٹھا: "اماں! تیرا اکبر آ گیا ہے... دیکھ میں آ گیا ہوں! اٹھو اماں مجھ سے بات کرو..."

صغراں بی بی نے اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر اکبر کو دیکھا، نفرت اور غصے سے ان کا جسم کانپ اٹھا۔ انہوں نے کہا:

"اب کیوں آئے ہو اکبر؟ جب تمہارا بھائی اصغر دوا اور کفن کے بغیر تڑپ تڑپ کر مر رہا تھا، تب تم کہاں تھے؟ جب تمہاری ماں روزانہ پل پر کھڑے ہو کر تمہارا انتظار کرتے کرتے پاگل ہو گئی اور بھوک سے تڑپ کر مر گئی، تب تم کہاں تھے؟ اصغر کو دفناتے وقت اس کے پاؤں ننگے رہ گئے تھے کیونکہ ہمارے پاس کفن کے پورے پیسے نہیں تھے... جاؤ جا کر اپنے اصغر بھائی کی قبر دیکھو اور اپنی ماں کی لاش دیکھو!"

باب ششم: دریائے سندھ کا آخری ستم

اكبر پاگلوں کی طرح اٹھا اور بھاگتا ہوا دریا کے کنارے اصغر کی چھوٹی سی قبر پر جا پہنچا۔ اس کے دونوں بازو معذور تھے، وہ زمین پر اوندھے منہ گر پڑا اور اپنے ناخنوں سے قبر کی مٹی کھودنے لگا۔ وہ رو رو کر آسمان کو پکار رہا تھا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے... میں دولت کے پیچھے بھاگتا رہا اور اپنوں کی لاشوں کے کفن تک چھین لیے!"

رات گہری ہو چکی تھی۔ بستی کے لوگوں نے جب صبح جا کر دیکھا، تو بخت بھری بی بی کی لاش کے ساتھ ہی اکبر کی لاش بھی پڑی تھی—وہ صدمے اور ندامت کی شدت سے دل کا دورہ پڑنے سے وہیں اصغر کی قبر پر ہی مر چکا تھا۔

دریائے سندھ کا پانی آج بھی میانوالی کے ان کناروں سے گزرتا ہے، تو بوڑھے لوگ کہتے ہیں کہ جب رات کو تیز ہوا چلتی ہے، تو اس پل پر ایک ماں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں جو آج بھی اپنے بیٹے سے پوچھتی ہے: "میرے بچے کا ادھورا کفن کیوں لائے تھے؟" دنیا کی کوئی بھی دولت یا شہرت اس خاندان کے اس درد کا مداوا نہیں کر سکی، اور یہ کہانی میانوالی کی اس مٹی کا ہمیشہ کے لیے ایک ناسور بن کر رہ گئی۔

Post a Comment

0 Comments