Urdu Kahania -Digital Kahani -Driya Nile ka kinara

دریائے نیل کا کنارہ اور آخری روٹی

ایک جگر دوز اور روح کو تڑپا دینے والی دردناک داستان | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: اسوان کا کچا گوٹھ اور غربت کا سایہ

دریائے نیل کی بچھڑی ہوئی دھاروں کے پاس، مصر کے تاریخی شہر اسوان کے ایک دور افتادہ کچے گوٹھ میں غربت کوئی لفظ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا عذاب تھی۔ مٹی کے گرے ہوئے مکانوں، سرکنڈوں کی چھتوں اور کچی گلیوں میں پھیلی اس بستی کا نام تو نقشے پر شاید ہی کہیں درج ہوتا، مگر یہاں سسکتی ہوئی زندگی کا اپنا ایک ہولناک وجود تھا۔ اسی گوٹھ کی ایک بوسیدہ اور بے در چھپری میں پچپن سالہ مریم بی بی اپنے آٹھ سالہ بیٹے نور اور چھ سالہ بیٹی سکینہ کے ساتھ رہتی تھیں۔

مریم بی بی کا شوہر احمد، جو ایک مقامی کھجور کے باغ میں مزدوری کرتا تھا، تین سال پہلے گہرے کنویں میں گر کر دم توڑ گیا تھا۔ شوہر کی ناگہانی موت کے بعد مریم بی بی کے پاس آنسو بہانے کا وقت بھی نہیں تھا، کیونکہ دو ننھے پیٹوں کی بھوک ہر صبح ان کے سامنے اکڑ کر کھڑی ہو جاتی۔ وہ گاؤں کے زمینداروں کے گھروں میں برتن دھوتیں، کپڑے لتھڑتیں اور فصلوں کی کٹائی کے موسم میں دن بھر چلچلاتی دھوپ میں سونا بن کر تپتیں۔ بدلے میں جو چند روپے یا باجرے کی باسی روٹیاں ملتیں، ان سے ان بچوں کے لٹکے ہوئے پیٹوں کا دوزخ بھرتا۔

نور ایک انتہائی ذہین اور حساس بچہ تھا۔ اس کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں اسکول جانے کی تمنا تھی، مگر اپنے گھر کے فاقوں اور ماں کے گھسے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ کر اس نے اپنے سارے خواب دل کی گہرائیوں میں دفن کر دیے تھے۔ وہ اپنی چھوٹی بہن سکینہ کا باپ بھی تھا اور رکھوالا بھی۔ وہ اکثر گاؤں کے زمیندار کے بیٹے کو اسکول جاتے دیکھتا تو خاموشی سے اپنے بوسیدہ چوغے سے آنسو پونچھ کر اپنی بہن کے لیے لکڑیاں چننے نکل جاتا۔

باب دوم: سیلاب کا قہر اور آخری چھت کا چھن جانا

इसी برس اگست کے مہینے میں افریقی پہاڑوں پر حد سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ دریائے نیل جو اب تک خاموش بہتا تھا، اچانک ایک خونخوار اژدہے کی طرح گرچنے لگا۔ رات کی تاریکی میں جب پورا گوٹھ سو رہا تھا، دریا کا بند ٹوٹ گیا۔ پانی کے تیز دھارے، مٹی کے مکانوں کو یوں بہا کر لے جانے لگے جیسے وہ کاغذ کی کشتیاں ہوں۔

مریم بی بی نے حواس باختہ ہو کر نور کو ایک ہاتھ سے تھاما اور سکینہ کو اپنے سینے سے چپکایا۔ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بستی کے اونچے بند کی طرف بھاگیں۔ چاروں طرف چیخ و پکار، جانوروں کی منمناتے ہوئے ڈوبنے کی آوازیں اور تاریکی کا عذاب تھا۔ مریم بی بی کا سامان، ان کی مٹی کا چولہا اور ان کی برسوں کی جمع پونجی—سب کچھ چند لمحوں میں دریا کا نذرانہ بن گیا۔

جب صبح کا سورج طلوع ہوا، تو ان کا گوٹھ پانی کے نیچے دفن ہو چکا تھا۔ مریم بی بی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کے کنارے، کھلے آسمان تلے بیٹھی تھیں۔ سرد ہوا ان کی ہڈیوں میں سوئیاں چھبو رہی تھی اور پانی میں بھیگے ہوئے کپڑے جسم پر لٹکے ہوئے تھے۔ مگر سب سے بھیانک دشمن ان کے سامنے کھڑا تھا—بھوک!

باب سوم: تین دن کا فاقہ اور معصوم ضد

پہلے دن لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے، مگر دوسرے اور تیسرے دن تک امداد کا کوئی سامان اس دور افتادہ بند تک نہ پہنچ سکا۔ مریم بی بی کے پاس نقد ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ تین دن گزر گئے؛ نور اور سکینہ کے ہونٹ پاپڑی بن چکے تھے اور بھوک سے ان کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں۔ سکینہ رہ رہ کر ماں کے پھٹے ہوئے دوپٹے کو پکڑ کر سسکتی:

"اماں! مجھے تھوڑی سی روٹی دے دو... میرا پیٹ اندر سے کاٹ رہا ہے اماں! میں اب اور نہیں روؤں گی، بس ایک نوالہ دے دو..."

مریم بی بی کا کلیجہ چاک ہو رہا تھا۔ انہوں نے امدادی کیمپ قائم کرنے والے چند مقامی بااثر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، ان کے پیروں پر گر کر گڑگڑائیں، مگر وہاں ہر طرف افراتفری تھی اور غریب کی سسکی سننے والا کوئی نہ تھا۔ ایک مقامی تاجر نے گودام سے راشن کا ایک تھیلا لاتے ہوئے حقارت سے مریم بی بی کو دھکا دیا اور کہا: "پیچھے ہٹو! یہاں ہزاروں لوگ مر رہے ہیں، تم کوئی نواب نہیں ہو۔"

نور نے اپنی ماں کو زمین پر گرتے اور اس تاجر کے سامنے ذلیل ہوتے دیکھ لیا۔ اس کے معصوم دل پر ایسا تیر لگا جس نے اس کے اندر کا بچپن اسی لمحے قتل کر دیا۔ اس نے اپنی ماں کے ہاتھ کو تھام کر اٹھایا اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا: "اماں! تم اب کسی سے کچھ مت مانگو۔ میں بڑا ہو گیا ہوں، میں تمہارے اور سکینہ کے لیے روٹی لے کر آؤں گا۔"

باب چهارم: غیرتِ بالاں اور وہ خونی روٹی

نور بھاگتا ہوا شاہراہ کی طرف گیا جہاں شہر سے آنے والی گاڑیاں گزرا کرتی تھیں۔ وہاں کچھ لوگ تباہ حال لوگوں پر سیب اور روٹی کے ٹکڑے پھینک رہے تھے جیسے چڑیا گھر میں جانوروں پر خوراک پھینکی جاتی ہے۔ بھوکے لوگوں کا ایک ہجوم ان روٹیوں کے ٹکڑوں پر کتوں کی طرح جھپٹ رہا تھا۔

نور اس خوفناک ہجوم میں گھس گیا۔ آٹھ سال کے اس چھوٹے سے بچے نے اپنی تمام تر طاقت مجتمع کر کے روٹی کا ایک پورا ٹکڑا اپنے ہاتھ میں دبایا۔ اس کے دل میں بس ایک ہی خیال تھا: "یہ روٹی سکینہ اور اماں کھائیں گی!" اس نے روٹی کو اپنے سینے کے ساتھ مضبوطی سے چپکا لیا۔

مگر بھوک انسان کو درندہ بنا دیتی ہے۔ ہجوم میں سے ایک تنومند، بے حس آدمی نے نور کے ہاتھ میں روٹی دیکھی۔ اس نے نور کو پیچھے سے گریبان سے پکڑا اور جھٹکا دیا۔ نور زمین پر گرا، مگر اس نے روٹی نہ چھوڑی۔ اس آدمی نے غصے میں آ کر نور کے سینے اور سر پر زور دار ٹھوکر ماری۔ نور کے چہرے پر خون کا فوارہ چھوٹ پڑا، اس کی پسلیوں کے ٹوٹنے کی آواز آئی، مگر اس کی گرفت روٹی پر اور مضبوط ہو گئی۔

اس نے زبردستی روٹی چھیننے والے درندے کے ہاتھ پر دانت کاٹ لیے اور کسی طرح گھسٹتا ہوا، خون میں لت پت حالت میں ہجوم سے باہر نکل آیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا، ہر سانس کے ساتھ اس کے سینے سے شدید درد کی لہر اٹھتی تھی، مگر وہ اپنے پیروں کو گھسیٹتا ہوا اپنی ماں اور بہن کی طرف بڑھتا رہا۔

باب پنجم: آخری نوالہ اور روح کا پرواز کرنا

دوسری طرف بند کے کنارے مریم بی بی سکینہ کو گود میں لیے بے تابی سے نور کا انتظار کر رہی تھیں۔ سکینہ کی سانسیں دھیرے دھیرے مدہم ہو رہی تھیں اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔ اچانک مریم بی بی نے دیکھا کہ نور خون میں نہایا ہوا، گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا ان کی طرف آ رہا ہے۔

مریم بی بی نے چیخ مار کر بچے کو اپنی آغوش میں لیا: "نور! میرے بچے! یہ تمہیں کیا ہوا؟ کس ظالم نے تمہاری یہ حالت کی؟"

نور کی آنکھوں میں شدید درد تھا، مگر اس کے ساتھ ہی ایک عجیب سی فخریہ مسکراہٹ بھی تھی۔ اس نے اپنے خون سے لت پت ننھے ہاتھوں کو کھولا۔ اس کی مٹھی میں روٹی کا وہ ٹکڑا تھا جو اس کے اپنے سرخ خون سے بالکل تر ہو چکا تھا۔ نور نے لرزتی ہوئی، ٹوٹتی آواز میں کہا:

"اماں... میں بھیک مانگ کر نہیں لایا... میں اپنی محنت سے لایا ہوں۔ یہ سکینہ کو کھلا دو... اس کا پیٹ بھر جائے گا نا اماں؟ اور اماں... مجھے معاف کر دینا، میں تمہارے لیے بڑی گاڑی اور پکا گھر نہ بنا سکا..."

یہ کہتے ہی نور کا سر ماں کی گود میں ایک طرف ڈھلک گیا۔ اس کی معصوم આંکھیں کھلی رہ گئیں، اور وہ ننھی سی روح اس بے حس دنیا کی ذلتوں اور بھوک سے تنگ آ کر ہمیشہ کے لیے اپنے رب کے پاس پرواز کر گئی۔

باب ششم: ابدی خاموشی اور قیامت کا منظر

مریم بی بی نے اپنے بیٹے کے بے جان وجود کو دیکھا، پھر اس خون میں لت پت روٹی کو دیکھا اور پھر اپنی ننھی بیٹی سکینہ کو دیکھا جو بھائی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے ہلانے کی کوشش کر رہی تھی: "بھیا! اٹھو نا... روٹی کھاؤ..." مگر سکینہ کی آواز بھی اب دھیمی ہوتی جا رہی تھی—شدید نقاہت اور بھوک کے باعث چند ہی منٹوں بعد سکینہ نے بھی بھائی کی لاش پر سر رکھ کر اپنی آخری سانس چھوڑ دی۔

ایک ہی لمحے میں مریم بی بی کی کائنات اجڑ چکی تھی۔ نہ رونے کے لیے آنسو بچے تھے، نہ چیخنے کے لیے آواز۔ وہ اس کھلے آسمان تلے اپنے دو معصوم بچوں کی لاشوں کے پاس پتھر کا مجسمہ بنی بیٹھی رہیں۔ ان کے ہاتھ میں روٹی کا وہی خون آلود ٹکڑا جکڑا ہوا تھا۔

جب شام کو امدادی ٹیمیں وہاں پہنچیں، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ماں اپنے دو بچوں کے لاشوں پر اوندھے منہ گری پڑی تھی اور اس کا دل بھی صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے بند ہو چکا تھا۔ دریائے نیل کی سنگدل لہریں آج بھی جب اسوان کے ان کناروں کو چھوتی ہیں، تو ہوا میں ایک معصوم بچے کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے: "اماں! یہ روٹی بھیک کی نہیں ہے..." یہ کہانی اس سوسائٹی کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو غریب کے جینے کا حق تو چھینتی ہی ہے، مگر اس کے مرنے پر بھی اسے عزت کا کفن نہیں دیتی۔

Post a Comment

0 Comments