بیمار خط اور ماں کا خالی بستر
گاؤں کے ایک ویران اور پرانے گھر میں رکی ہوئی گھڑی کی ٹک ٹک کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں آتی تھی۔ اس گھر کی چار دیواری میں اسّی سالہ اماں ساجدہ پچھلے چھ سال سے اپنے علیل وجود کے ساتھ اکیلی رہ رہی تھیں۔ ان کا اکلوتا بیٹا عادل، جو روزگار کے سلسلے میں شہر گیا تھا، سالوں سے پلٹ کر نہیں آیا تھا۔ اماں کے پاس بیٹے کی آخری نشانی کے طور پر ایک خط تھا، جسے وہ روز عینک لگا کر پڑھنے کی ناکام کوشش کرتی تھیں، کیونکہ اب ان کی بینائی تقریباً جا چکی تھی۔
عادل کے وعدے اور شہر کی بے رحمی
عادل جب گاؤں سے گیا تھا تو اس نے جاتے ہوئے اماں کے ہاتھ پر ایک ہزار کا نوٹ رکھا تھا اور کہا تھا: "اماں! بس یہ چند دن کی محنت ہے، جب میرا کاروبار چل نکلا تو میں تمہیں اپنے ساتھ شہر کے بڑے گھر میں رکھ لوں گا۔" مگر شہر کی سنگدل سڑکوں اور لالچ نے عادل کو بدل دیا۔ اس نے پیسے کمانے کی ہوس میں ماں کو اس طرح فراموش کیا کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس کی ماں زندہ بھی ہے یا نہیں۔
اماں ساجدہ ہر روز دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ کر آنے جانے والے ہر شخص سے پوچھتی تھیں: "تم نے میرے عادل کو دیکھا ہے؟ وہ کہتا تھا کہ جلد واپس آؤں گا..." محلے والے ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے اور خاموش ہو جاتے۔ کوئی ان سے کہتا بھی تو کیا، کہ وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر
آٹھ سال گزرنے کے بعد عادل کا بزنس جب اپنے عروج پر پہنچا تو اسے اچانک اپنے بچپن کا وہ کچا گھر یاد آیا۔ اسے خیال آیا کہ اتنے سالوں میں اس نے اپنی ماں کی کوئی خبر نہیں لی۔ وہ فوری طور پر ایک مہنگی گاڑی میں بیٹھا اور اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کے دل میں یہ غرور تھا کہ وہ اپنی ماں کے لیے بہت سارا پیسہ اور تحفے لایا ہے، اب وہ سب ٹھیک کر دے گا۔
جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا تو اس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اماں کا بستر خالی پڑا تھا اور محلے کی چند عورتیں وہاں موجود تھیں۔
ایک بوڑھی ہمسائی نے آگے بڑھ کر عادل کے ہاتھ میں ایک پرانا، بوسیدہ لفافہ تھمایا اور روتے ہوئے بولی: "عادل! تم بہت دیر سے آئے ہو۔ تمہاری ماں کل رات آخری سانس تک تمہارا نام پکارتی رہی۔ مرنے سے پہلے وہ اس خط میں تمہاری تصویر دیکھ رہی تھی..." عادل نے جب وہ خط کھولا تو اس میں اس کا بچپن کا ایک خط اور ماں کے آنسوؤں سے بھیگا ہوا وہ کاغذ تھا جس پر لکھا تھا: "میرا بیٹا جلد آئے گا..." عادل اپنے ہاتھ میں پکڑے کروڑوں روپے کے بنڈل پھینک کر اس خالی بستر پر گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا، مگر اب دنیا میں اس کے رونے کا کوئی صلہ دینے والی ماں موجود نہیں تھی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.