Urdu Kahania - Digital Kahani - Be Name khat

روتی ہوئی کھڑکی اور بے نام خط

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر کی اس نکر والے مکان کی کھڑکی جب بھی کھلتی، اس سے جڑی اداسی پورے محلے میں پھیل جاتی تھی۔ اس گھر میں ننانوے سالہ بابا فضل اکیلے رہتے تھے، جن کی آنکھوں کی روشنی عمر کے آخری حصے میں دھیمی پڑ چکی تھی، مگر دل کا اجالا اب بھی اپنے اکلوتے بیٹے حارث کی یاد سے روشن تھا۔ حارث پندرہ سال پہلے روزگار کے سلسلے میں سمندر پار گیا تھا اور جاتے ہوئے کہہ گیا تھا کہ ابو! پہلی تنخواہ ملتے ہی پہلا ٹکٹ آپ کے پاس پہنچنے کا کٹا دوں گا۔

حارث کے وعدے اور سمندر پار کا سفر

ابتدا کے دو سال تو حارث کے خط اور پیسوں کے ارساجات باقاعدگی سے آتے رہے۔ بابا فضل نے ان پیسوں کو ہاتھ تک نہ لگایا، یہ سوچ کر کہ حارث جب واپس آئے گا تو اسے یہ امانت واپس لوٹا دیں گے۔ مگر وقت کا سمندر ایسا پھیلا کہ حارث کے خط پہلے چھ ماہ میں ایک بار، پھر سال میں ایک بار اور آخرکار مکمل طور پر بند ہو گئے۔ شہر کی چکاچوند، نئی دنیا کی مصروفیات اور غیر ملکی بیوی نے حارث کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ اسے اپنا بوڑھا باپ اور وہ پرانا مکان ایک بھولا ہوا افسانہ لگنے لگا۔

بابا فضل ہر روز صبح اٹھ کر اس کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتے، دروازے پر نظریں جمانے کے بعد ایک کاغذ اور قلم لے کر بیٹھ جاتے۔ وہ خود ہی حارث کے نام خط لکھتے اور خود ہی ان کا جواب فرضی طور پر لکھ کر تسلی کر لیا کرتے تھے۔ محلے والے ترس کھاتے ہوئے کہتے: "بابا فضل! اب اس بے وفا بیٹے کا انتظار چھوڑ دو، وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔" مگر وہ بوڑھا باپ مسکرا کر کہتا: "باپ کا دل پتھر کا نہیں ہوتا، اور میرا بیٹا مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔"

دیر سے کھلنے والی آنکھ اور ویران گھر

برسوں بعد جب حارث کی زندگی میں مالی بحران آیا، اس کی نوکری چلی گئی اور اس کے اپنوں نے اسے تنہا چھوڑ دیا، تب اسے اپنے اس بوڑھے باپ کی یاد ستانے لگی جس نے اسے پالا تھا۔ حارث پچھتاوے کی آگ میں جلتا ہوا ایک طویل سفر طے کر کے اپنے آبائی گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دل میں بس یہی خوف تھا کہ کہیں اس کا باپ اس سے خفا نہ ہو۔

جب وہ پرانے محلے میں پہنچا اور اپنے گھر کے باہر آیا، تو دروازے پر تالا نہیں تھا بلکہ لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ حارث کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ ہجوم چیرتا ہوا اندر داخل ہوا تو اس کی ٹانگیں کانپ اٹھیں۔ بابا فضل کا بے جان جسم چار پائی پر پڑا تھا اور ان کے ٹھنڈے ہاتھوں میں اس کا وہی پرانی تصویر والا بچپن کا خط دبا ہوا تھا جو اس نے جانے سے پہلے دیا تھا۔

ایک پڑوسی نے آگے بڑھ کر حارث کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھمایا اور کہا: "حارث! تم بہت دیر سے آئے ہو۔ تمہارا باپ پچھلے تین دن سے آخری سانس تک بس ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ میرا حارث آنے والا ہے، اس کے لیے دروازے کھلے رکھنا..." حارث نے اپنے باپ کے بے جان قدموں میں گر کر چیخیں مار کر رونا شروع کر دیا، مگر اب اس کے آنسوؤں کا مول چکانے کے لیے وہ بابا فضل اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ کھڑکی، جو اتنے سالوں سے امید لگائے بیٹھی تھی، ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی۔

Post a Comment

0 Comments