بارش اور ماں کی پرانی چادر
مون سون کی پہلی موسلا دھار بارش جب شہر کی پرانی بستی پر برسی، تو ہر طرف مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو پھیل گئی۔ اس بارش میں جہاں لوگ چھتوں کے نیچے بیٹھ کر گرم چائے کی چسکیاں لے رہے تھے، وہیں بستی کے ایک کونے میں بنے ایک چھوٹے سے کچے مکان میں بیٹھی ساٹھ سالہ زکیہ بی بی اکیلی تھیں۔ ان کی گود میں ایک پھٹی پرانی، سرمئی رنگ کی اون کی چادر رکھی تھی، جسے وہ بار بار اپنے سینے سے لگا لیتی تھیں۔ یہ چادر ان کے چھوٹے بیٹے ارمان کی تھی، جو پانچ سال پہلے بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر ملک گیا تھا اور پھر غریبی کی چکی میں ایسا پسا کہ نہ کبھی واپس آ سکا اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ رقم بھیج سکا۔
جدائی کے سال اور خالی چولہا
ارمان جب گھر سے گیا تھا، تو اس نے ماں سے وعدہ کیا تھا: "اماں! بس چند سال کی محنت ہے، پھر میں ایک بڑا گھر لوں گا اور آپ کو تمام آرام دوں گا۔" وقت پرواز کرتا رہا، مگر وعدے پورے نہ ہو سکے۔ ارمان کی پردیس میں نوکری ایسی پھنسی کہ وہ نہ وہاں کا ہو سکا اور نہ یہاں کا۔ شروع کے مہینوں میں فون آتے تھے، پھر وہ رابطے بھی مہینوں میں تبدیل ہو گئے اور آخر کار فون بند ہو گیا۔ زکیہ بی بی کے پاس بیٹے کی یاد کا واحد سہارا بس یہی پرانی چادر تھی، جسے اوڑھ کر وہ اکثر دروازے کی دہلیز پر بیٹھ جاتی تھیں۔
محلے والے ترس کھاتے ہوئے کہتے تھے: "زکیہ آپی! اب بھول جاؤ اس پردیسی کو، باہر کی ہوا لگ جانے کے بعد کوئی پلٹ کر نہیں آتا۔" مگر ماں کا دل کہتا تھا کہ میرا بچہ دھوکے باز نہیں ہے، وہ کسی مجبوری میں جکڑا ہوا ہے۔
دروازے پر دستक اور ایک مسافر
اس تیز بارش کی شام، جب پانی نالیوں سے باہر نکل کر گلیوں میں بہہ رہا تھا، زکیہ بی بی اکیلے چولہے کے پاس بیٹھی تھیں کہ اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ انہوں نے دل میں ایک انوکھی گھبراہٹ کے ساتھ اٹھ کر لکڑی کا دروازہ کھولا سامنے بارش میں بھیگا ہوا ایک شخص کھڑا تھا۔ اس کے جسم پر نہ کوئی کوٹ تھا، نہ ہی مہینے کا کمایا ہوا کوئی مال اسباب؛ اس کے تن پر بس ایک بوسیدہ سا کرتا تھا اور آنکھوں میں تھکن کا سمندر تھا۔
وہ ارمان تھا! وہ پردیس کے تمام فریب اور ناکامیاں اٹھا کر خالی ہاتھ اپنی ماں کی دہلیز پر لوٹ آیا تھا۔ ارمان نے ماں کو دیکھتے ہی ان کے پیروں میں سر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں آپ کو ارمانوں کا محل دینے چلا تھا، مگر خود سب کچھ گنوا بیٹھا... میرے پاس اب اس دنیا میں آپ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔"
زکیہ بی بی نے ایک پل کی تاخیر کیے بغیر اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے مضبوطی سے سینے سے لگایا اور اپنے ہاتھوں سے وہ پرانی چادر اس کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے بولیں: "پاگل! ماں کو محلات تھوڑی چاہیے ہوتے ہیں، اسے تو بس اپنی اولاد کا سایا چاہیے ہوتا ہے۔ میرا بیٹا لوٹ آیا، میرے لیے کائنات کی ہر دولت واپس آ گئی۔" باہر بارش برستی رہی، مگر اس گھر کا اندرونی ماحول برسوں کی اداسی کو دھو کر ہمیشہ کے لیے روشن ہو گیا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.