برف کے طوفان میں منجمد چٹھی اور ماں کی ہچکیاں
باب اول: سائبیریا کی برفانی وادی اور تالین کا گاؤں
روس کے شمال مشرق میں سائبیریا کی برفانی اور ویران وادیوں کے درمیان واقع 'تالین' نامی گاؤں دنیا کے ان خطوط پر بسا تھا جہاں سورج کی کرنیں بھی تپش کھو دیتی ہیں۔ یہاں سال کے آٹھ مہینے زمین پر کئی فٹ موٹی برف کی تہیں جمی رہتی ہیں اور ہواؤں کا شور کسی روتی ہوئی روح کی طرح کانوں کے پردے پھاڑتا ہے۔ اسی گاؤں کے ایک کونے میں لکڑی کے تختوں سے بنی ایک ٹوٹی پھوٹی کٹیا تھی، جس میں ستر سالہ بڑھیا ماریا اپنے بیمار شوہر کے سوگ اور اکیس سالہ پوتے الیا کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہی تھی۔
ماریا کی زندگی مصائب اور دکھوں کا ایک طویل باب تھی۔ اس کے دونوں بیٹے چند سال پہلے تالین کے پاس واقع کوئلے کی کان میں ایک خوفناک دھماکے کے نتیجے میں اس وقت لقمہ اجل بن گئے تھے جب کان کے مالکان نے سردی کے باوجود کام بند کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شوہر فالج کے حملے کے بعد سے بستر سے لگ چکا تھا، اور گھر کی واحد امید صرف الیا تھا۔ الیا ایک محنتی اور نرم دل نوجوان تھا، جو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر کی مارکیٹ میں بیچتا اور جو دو کوپیک (روسی سکے) ملتے، ان سے دوا اور روٹی کا بندوبست کرتا۔
مگر نومبر کی شروعات میں ہی سائبیریا کا موسم اس قدر بے رحم ہو گیا کہ ہڈیوں کو جما دینے والا طوفان آ گیا۔ اس طوفان نے باہر نکلنے کے سارے راستے بند کر دیے اور کٹیا کے اندر رکھی لکڑیوں کا ذخیرہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گیا۔ گھر میں نہ جلانے کے لیے کوئلہ تھا اور نہ ہی کھانے کے لیے آخری ٹکڑا۔
باب دوم: الیا کا فیصلہ اور برفانی جنگل کا سفر
رات کے وقت جب درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سے بھی نیچے گر چکا تھا، الیا نے دیکھا کہ اس کے دادا ٹھنڈ کی شدت سے نیلے پڑ رہے ہیں اور دادی ماریا بھوک اور کمزوری سے نیم بے ہوش ہو چکی ہیں۔ الیا کا دل خوف اور درد سے بھر گیا۔ اس نے اپنے پرانے کوٹ کے بٹن بند کیے، کندھے پر کلہاڑی رکھی اور کہا:
"دادی! آپ پریشان نہ ہوں۔ میں جنگل کے کنارے تک جا کر سوکھی لکڑیوں کے چند گٹھے لے کر آتا ہوں، ورنہ دادا اس سردی میں صبح نہیں دیکھ پائیں گے۔ میں جلدی واپس آؤں گا!"
ماریا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے الیا کو روکنے کی کوشش کی اور روتے ہوئے بولی: "بیٹا! باہر بلیک بلیزارڈ (سیاہ برفانی طوفان) چل رہا ہے۔ کوئی انسان باہر زندہ نہیں بچ سکتا۔ مت جاؤ!" مگر الیا مسکرایا، اپنی ماں کی نشانی والا مفلر گلے میں لپیٹا اور دروازہ کھول کر سفید تاریکی میں گم ہو گیا۔
گھنٹے گزرتے گئے، رات گہری ہوتی گئی اور طوفان مزید زور پکڑ گیا۔ ماریا دروازے کی دراڑ سے باہر دیکھتی رہی، مگر اسے برف کے طوفان کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا۔ بوڑھے دادا نے صبح ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیا، مگر ماریا کی آنکھوں کے آنسو اس کے بیٹے یا شوہر کے لیے نہیں بلکہ الیا کے انتظار میں خشک ہو چکے تھے۔
باب سوم: تین دن کا انتظار اور لاش کی دریافت
طوفان تھمنے میں پورے تین دن لگ گئے۔ جب چوتھے دن سورج کی مدہم سی روشنی برف کی سفید چادر پر پڑی، تو گاؤں کے چند لوگ ماریا کی خبر لینے کے لیے ان کی کٹیا کی طرف آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ماریا اپنے مردہ شوہر کے پاس پتھر کی مورتی بنی بیٹھی ہے۔ جب لوگوں نے الیا کے بارے میں پوچھا، تو ماریا نے خالی نظروں سے باہر برف کی طرف اشارہ کیا۔
گاؤں کے نوجوانوں نے جنگل کے راستے پر تلاش شروع کی۔ کٹیا سے محض دو کلومیٹر دور، ایک پرانے صنوبر کے درخت کے نیچے الیا کی لاش ملی۔ وہ برف میں اس طرح اکڑ چکا تھا کہ اس کا جسم پتھر بن چکا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کلہاڑی مضبوطی سے جکڑی ہوئی تھی اور دوسرا ہاتھ اس کے کوٹ کی اندرونی جیب پر رکھا ہوا تھا۔
جب لوگوں نے اس کا ہاتھ ہٹا کر جیب سے کاغذ نکالا، تو وہ ایک پرانی، تہہ کی ہوئی چٹھی تھی جو الیا نے مرنے سے چند منٹ پہلے اپنے خون سے یا شاید جمے ہوئے ہاتھوں سے لکھی تھی۔ اس چٹھی کے الفاظ پڑھ کر وہاں کھڑے ہر سخت دل شکاری کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
باب چہارم: خون سے لکھی گئی آخری چٹھی
اس چٹھی کے الفاظ آج بھی تالین گاؤں کے پرانے لوگ یاد کرتے ہیں:
"میری پیاری دادی! طوفان بہت تیز ہے اور میرے پاؤں اب میرے قابو میں نہیں ہیں۔ راستے میں میرا کوٹ پھٹ گیا ہے اور سردی میری روح کو چیر رہی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے لیے لکڑیاں نہیں لے جا سکا۔ دادا کو میرا آخری سلام کہیے گا۔ دادی! اگر میری لاش ملے، تو مجھے اس کچی مٹی میں دفن کرنا جہاں میرے بابا آرام کر رہے ہیں۔ میری قبر پر بس اتنا لکھ دینا—'ایک بیٹا جو اپنی ماں کو سردی سے بچاتے ہوئے خود جم گیا'۔ مجھے معاف کر دینا دادی!"
جب الیا کی لاش کو کٹیا لایا گیا اور ماریا کو وہ چٹھی دکھائی گئی، تو اس نے کوئی چیخ نہیں ماری، کوئی ماتم نہیں کیا۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہلکی سی سسکی نکلی، اور اس کا دل اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
باب پنجم: برف کا کفن اور ابدی نیند
گاؤں کے غریب لوگوں نے چندہ کر کے تینوں جنازے ایک ہی ساتھ تیار کیے۔ نہ ان کے پاس کفن کے لیے اچھا ریشم تھا اور نہ ہی رونے کے لیے طاقت۔ الیا، اس کے دادا اور دادی ماریا کو اسی برفانی جنگل کے دامن میں ایک ہی قبر کے پاس دفنا دیا گیا۔
آج بھی جب سائبیریا کی ان وادیوں میں سردیوں کی راتوں کو تیز ہوائیں چلتی ہیں، تو وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ جنگل کے اس پرانے صنوبر کے درخت کے پاس ایک نوجوان کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنی دادی سے پوچھتا ہے: "دادی! کیا اب بھی آپ کو سردی لگ رہی ہے؟" یہ کہانی اس بے رحم دنیا کا ماتم ہے جہاں دولت مندوں کے محلات میں آگ دہکتی ہے، مگر غریب کا بیٹا اپنے ہی گھر کی گرمی کے لیے اپنی جان کی بازی ہار جاتا ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.