Urdu Kahania -Digital Kahani - Band Darwaza or MAA ki hichki

بند دروازہ اور ماں کی آخری ہچکی

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر سے دور اس پرانی اور ٹوٹی پھوٹی بستی میں جب بھی رات گہری ہوتی، ایک اداس سا سناٹا ہر طرف پھیل جاتا تھا۔ اس بستی کے آخری کونے میں ایک چھوٹے سے کچے مکان کے اندر اسی سالہ مسمات آسیہ بی بی بسترِ مرگ پر پڑی تھیں اور ان کی آنکھیں مسلسل دروازے کی جانب لگی ہوئی تھیں۔ ان کا اکلوتا بیٹا ندیم اٹھارہ سال قبل روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا تھا اور پھر طویل مسافتوں اور بے رخی کے سمندر میں ایسا گم ہوا کہ اس نے مڑ کر ماں کی خبر تک نہ لی۔

ندیم کے بلند و بالا خواب اور غفلت

ندیم جب گھر سے رخصت ہوا تھا تو اس کے پاس دینے کے لیے صرف بڑے بڑے وعدے تھے: "اماں! بس کچھ ہی سالوں میں تجھے ان غربت کے مارے حالات سے نکال کر شاہانہ زندگی دوں گا۔" مگر پردیس کی رنگینیوں، نئی منزلوں اور حوس کے اندھیروں نے ندیم کو اس قدر بدلا کہ اسے اپنی وہ بوڑھی ماں یاد ہی نہ رہی جو روزانہ اس کی راہ تکتے تکتے سو جایا کرتی تھی۔ ابتدائی چند مہینے پیسے آئے، پھر رابطے کم ہوئے اور بالآخر خطوط کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔

آسیہ بی بی ہر روز عصر کے بعد گھر کے بند دروازے کو کھول کر باہر بیٹھ جاتیں اور محلے کے بچوں سے کہتیں: "کوئی میرے ندیم کو بتائے کہ اس کی ماں کا دم نکل رہا ہے، وہ آ کر مجھے آخری بار دیکھ لے..." محلے والے ترسی ہوئی نظروں سے دیکھتے، مگر ان کے پاس اس ماں کے دل کو ڈھارس دینے کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔

دیر سے جاگنے والا ضمیر اور کھنڈہر بنا گھر

برسوں بعد جب ندیم کے کاروبار کو زوال آیا، اس کے اپنے ساتھی اسے دھوکہ دے کر بھاگ گئے اور وہ تمام مالی وسائل سے محروم ہو گیا، تو اسے اچانک اپنے آبائی وطن اور اس ماں کی یاد ستانے لگی جس نے اسے پالا تھا۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے جھکا ہوا ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا، اور دل میں یہی سوچتا رہا کہ شاید ماں کے قدموں میں گر کر اس کا پچھتاوا کم ہو جائے۔

جب وہ اس پرانی گلی میں پہنچا تو اس کے گھر کے باہر تالا نہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔ وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم سفید چادر اوڑھے چار پائی پر پڑا تھا اور ہمسائے ان کی تدفین کے آخری مراحل میں مصروف تھے۔

ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر ندیم کا ہاتھ پکڑا اور بھاری آواز میں کہا: "ندیم! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرنے سے چند لمحے پہلے تک بند دروازے کی طرف دیکھ کر یہی پکار رہی تھی کہ میرا بیٹا دروازہ کھولنے والا ہے..." ندیم نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ماں کے سرد پیروں پر سر رکھ دیا اور چیخ چیخ کر معافی مانگنی چاہی، مگر اب اس بند دروازے کو کھولنے والی وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی اور ندیم کے حصے میں صرف اور صرف زندگی بھر کا روگ آ گیا تھا۔

Post a Comment

0 Comments