اماں کی پرانی رضائی اور سرد رات
سردیوں کی ایک انتہائی یخ بستہ رات جب بستی کے ہر گھر میں لوگ گرم بستروں میں سو رہے تھے، ایک چھوٹے سے کچے مکان کے دالان میں بیٹھی اسّی سالہ مسمات کلثوم بی بی ایک پھٹی پرانی، موٹی روئی والی رضائی کو بار بار اپنے سینے سے لگا رہی تھیں۔ یہ رضائی ان کے اکلوتے بیٹے وقاص کی تھی، جو بارہ سال پہلے سردیوں کے ہی ایک دن گھر سے یہ کہہ کر نکلا تھا کہ وہ بڑے شہر جا کر اتنے پیسے کمائے گا کہ ماں کو سردی میں کبھی تکلیف نہیں ہوگی، مگر پھر وہ کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔
وقاص کے بڑے خواب اور بے وفائی
وقاص جب گھر سے گیا تھا تو اس کی آنکھوں میں شہر کی بڑی بڑی چمکدار عمارتیں اور عیش و آرام کی زندگی کے خواب تھے۔ اس نے جاتے ہوئے ماں سے کہا تھا: "اماں! یہ سردیوں کی ٹھنڈ اور غریبی ہمارے مقدر میں ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ دیکھنا، اگلی سردیوں میں تمہیں اس کچے گھر میں نہیں رکھوں گا۔" مگر شہر کی بے رحم چکاچوند نے وقاص کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ وہ اپنی غریب ماں اور اس کے دیے گئے وعدوں کو یکسر بھول گیا۔
شروع کے کچھ مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، پھر یہ رابطہ سال میں ایک بار اور پھر بالکل ختم ہو گیا۔ محلے والے ترس کھاتے ہوئے کہتے: "کلثوم آپی! اب اس نالائق کا انتظار چھوڑ دو، شہر کے لوگ اپنے ماں باپ کے نام تک مٹا دیتے ہیں۔" مگر ماں کا دل کہتا تھا کہ میرا بیٹا جتنا بھی سنگدل ہو جائے، تکلیف میں اسے صرف میری ہی گود یاد آئے گی۔
تقدیر کا کٹھن موڑ اور پچھتاوا
وقت کا پہیہ گھوما اور دنیا نے اپنا رنگ بدلا۔ جس وقاص پر دولت مہربان تھی، ایک بڑے کاروباری دھوکے نے اسے ایک ہی رات میں روڈ پر لا کھڑا کیا۔ اس کے سارے بینک اکاؤنٹس سیل ہو گئے، دوست منہ پھیر گئے اور سردی کی اس رات اس کے پاس تن ڈھانپنے کے لیے ایک چادر تک نہ بچی۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا اور دنیا نے اسے ٹھکرا دیا، تو اسے اپنی بوڑھی ماں کی وہ پرانی رضائی اور دعائیں شدت سے یاد آئیں۔
رات کے آخری پہر جب باہر برف جیسی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اس پرانے مکان کے دروازے پر انتہائی ہلکی سی دستک ہوئی۔ کلثوم بی بی نے کانپتے ہاتھوں سے لالٹین اٹھائی اور دروازہ کھولا؛ سامنے زمین پر نڈھال پڑا ہوا ایک شخص تھا، جس کے جسم پر پھٹ چکے کپڑے تھے اور چہرے پر ندامت کے آنسو جم چکے تھے۔
وہ وقاص تھا! وہ سسکیاں لیتے ہوئے ماں کے قدموں میں گر پڑا اور بولا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں سب کچھ ہار کر، دنیا کا سب سے بے وقوف انسان بن کر تمہارے پاس لوٹا ہوں... کیا مجھے اس سردی میں پناہ مل سکتی ہے؟" کلثوم بی بی نے فوراً جھک کر اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگایا اور وہ پرانی رضائی لا کر اس کے جسم پر ڈالتے ہوئے بولیں: "پاگل! ماں کبھی اولاد سے خفا ہوتی ہے کیا؟ میرا مسافر لوٹ آیا، اب میرے گھر میں کبھی سردی نہیں ہوگی۔" اس رات اس پرانے گھر کی سردی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.