Urdu Kahania -Digital kahani -Ami ki Purani Chadi

اماں کی پرانی چھڑی اور منتوں کا دروازہ

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر سے دور بستی کے ایک پرانے مکان کے دروازے کے ساتھ لکڑی کی ایک بوسیدہ چھڑی رکھی تھی، جسے چھونے کی اجازت گھر میں کسی کو نہیں تھی۔ یہ چھڑی اسّی سالہ اماں زینت کی تھی، جو ہر صبح اٹھ کر اس چھڑی کے سہارے دروازے تک آتیں، چوکھٹ پر نظریں ٹکا دیتیں اور سارا دن اسی طرح گزار دیتیں۔ یہ چھڑی ان کے چھوٹے بیٹے دانش کی تھی، جو چودہ سال پہلے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود بڑے شہر میں امیر بننے کی چاہ میں گھر چھوڑ گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔

دانش کے خواب اور پردیس کا سفر

دانش جب جوان ہوا تو اس کی زبان پر ہمیشہ ایک ہی بات ہوتی تھی: "اماں! یہ غریبی کا کچا گھر ہمارے لیے نہیں ہے۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گا کہ آپ کو محلات جیسی زندگی دوں گا۔" ماں نے روتے ہوئے سمجھایا تھا کہ بیٹا دولت سے زیادہ دلوں کا سکون قیمتی ہوتا ہے، مگر دانش کے سر پر ہوس کا بھوت سوار تھا۔ وہ چھڑی کے سہارے گھر سے نکل تو گیا، مگر شہر کی اندھی دوڑ میں اس نے اپنی ماں اور اپنے اصولوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

ابتدا میں فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، پھر یہ فاصلے بڑھتے گئے اور آخرکار رابطے بالکل منقطع ہو گئے۔ محلے کے لوگ کہتے تھے: "اماں زینت! اب اس نالائق کا انتظار چھوڑ دو، شہر کے بڑے لوگ اپنے پرانے رشتوں کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔" مگر ماں کا دل کہتا تھا کہ میرا بچہ چاہے دنیا کا سب سے بڑا مجرم کیوں نہ بن جائے، تکلیف میں اسے صرف میری ہی یاد آئے گی۔

تقدیر کا انصاف اور ندامت

وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ دانش نے جس دولت اور فریب کی بنیاد پر اپنا شیش محل بنایا تھا، وہ ایک ہی جھٹکے میں ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا۔ کاروباری شراکت داروں کا دھوکہ، عدالتوں کے چکر اور بھاری قرضوں نے اسے ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیا۔ جب اس کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ رہی اور دوست منہ پھیر گئے، تو اسے اپنی بوڑھی ماں کی دعائیں اور وہ پرانی چوکھٹ شدت سے یاد آئی۔

ایک برفانی اور تاریک رات، جب باہر ہوائیں سنسنا رہی تھیں، اس پرانے مکان کی گھنٹی بجی۔ اماں زینت نے لرزتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا؛ سامنے دانش کھڑا تھا، جس کے جسم پر پھٹے ہوئے کپڑے، آنکھوں میں گہری تھکن اور چہرے پر شرمندگی کی گہری سیاہی تھی۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور بولا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں سب کچھ ہار کر، دنیا کا سب سے ناکام انسان بن کر تمہارے پاس لوٹا ہوں۔ کیا تم مجھے اپناؤ گی؟" اماں زینت نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور بولیں: "پاگل! ماں کے لیے اولاد کی دولت نہیں، اس کا وجود اہم ہوتا ہے۔ میرا مسافر لوٹ آیا، اب میرے دل کا ہر اندھیرا مٹ گیا ہے۔" اس رات اس گھر کا سنسان آنگن برسوں کے بعد خوشیوں سے مہک اٹھا۔

Post a Comment

0 Comments