اماں کی پرانی جوتی اور سنسان آنگن
گاؤں کے ایک کچے مکان کے پرانے آنگن میں ایک جوڑی ٹوٹی ہوئی چمڑے کی جوتی رکھی تھی، جو پچھلے بارہ سال سے اپنی جگہ سے ہلائی نہیں گئی تھی۔ یہ جوتی ستر سالہ اماں سکینہ کی سب سے بڑی امانت تھی۔ ان کا اکلوتا بیٹا طارق جب نوکری کی تلاش میں گھر سے نکلا تھا، تو جاتے ہوئے اس نے جلدی میں اپنی پرانی جوتی یہیں چھوڑ دی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ جب وہ شہر میں سیٹ ہو جائے گا، تو پہلی تنخواہ سے اپنے ہاتھوں سے ماں کو نئی جوتی لا کر دے گا۔
خوابوں کا شہر اور ٹوٹتے رشتے
طارق جب بڑے شہر گیا، تو ابتدا میں تو سب کچھ ٹھیک رہا۔ اس نے چھوٹی موٹی نوکری سے شروعات کی اور پھر آہستہ آہستہ ایک فیکٹری میں منیجر بن گیا۔ لیکن شہر کی رنگینیاں، بلند و بالا عمارات اور جدید طرزِ زندگی نے طارق کی سوچ بدل دی۔ اسے اپنی غریب ماں اور کچا گھر اب ایک بوجھ محسوس ہونے لگے۔ شروع میں جو فون ہفتے میں دو بار آتے تھے، وہ پہلے مہینے میں ایک بار اور پھر سال میں کسی ایک تہوار تک محدود ہو گئے۔
اماں سکینہ ہر روز صبح اٹھ کر اس آنگن میں رکھی جوتی کو دیکھتیں، اس پر جمی مٹی صاف کرتی اور سوچتی کہ شاید آج طارق کا فون آئے گا یا وہ اچانک دروازے پر آ جائے گا۔ محلے والے جب بھی ان سے کہتے کہ طارق اب تمہیں بھول چکا ہے، تو ماں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے مگر وہ کہتی: "میرا بچہ وعدہ کر کے گیا ہے، وہ اپنی ماں کو ادھورا نہیں چھوڑے گا۔"
شہر کا فریب اور ندامت کی شام
وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے پلٹا کھایا۔ طارق جس فیکٹری میں کام کرتا تھا، وہاں ایک مالیاتی گھٹالا ہوا جس کا الزام طارق پر آ گیا۔ وہ قانونی مقدمات اور دھوکہ دہی کی وجہ سے نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا بلکہ اس کی جمع پونجی بھی وکلوں اور جرمانوں کی نذر ہو گئی۔ دوست احباب جو اس کی کامیابی میں ساتھ تھے، مصیبت پڑتے ہی منہ موڑ گئے۔ جب ہر طرف سے دروازے بند ہو گئے، تو طارق کو اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے آنگن کی یاد ستانے لگی۔
ایک اندھیری شام، جب ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، اس پرانے مکان کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اماں سکینہ نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا تو سامنے طارق کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کی تہیں، کپڑے میلے اور سر جھکا ہوا تھا۔ وہ سیدھا اماں کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا۔
طارق نے سسکتے ہوئے کہا: "اماں! میں سب کچھ ہار کر آیا ہوں، دنیا نے مجھے ٹھکرا دیا ہے... کیا آپ مجھے معاف کر دیں گی؟" اماں سکینہ نے جھک کر بیٹے کو اٹھایا، اپنے سینے سے لگایا اور مسکراتے ہوئے بولیں: "پاگل! ماں کبھی اولاد کے دروازے بند نہیں کرتی۔ تیری چھوڑی ہوئی جوتی آج بھی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ میرا بیٹا واپس آئے گا۔" اس شام طارق کا پچھتاوا دھل گیا اور آنگن کی خاموشی ہمیشہ کے لیے محبت میں بدل گئی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.