Urdu Kahania - Digital Kahani - Ama ki Purani Khadi

اماں کی پرانی گھڑی اور عید کا چاند - جذباتی کہانی

اماں کی پرانی گھڑی اور عید کا چاند

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر کی تنگ اور پرانی گلی میں واقع ایک بوسیدہ سے گھر میں ہر سال عید کے چاند رات کو ایک ہی منظر دہرایا جاتا تھا۔ ستتر سالہ اماں سکی ہوئی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے ایک پرانی، زنگ آلود گھڑی کو صاف کر رہی ہوتی تھیں۔ یہ گھڑی ان کے چھوٹے بیٹے وقار کی تھی، جو دس سال پہلے گھر والوں کی مرضی کے خلاف ایک بڑے شہر میں اپنی قسمت آزمانے گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔

وقار اور اس کی ماں کے درمیان آخری بار تلخ کلامی ہوئی تھی۔ اماں چاہتی تھی کہ وقار محلے میں ہی کوئی چھوٹا موٹا کام کر کے سادگی سے گزارا کرے، مگر وقار کے خواب بہت بڑے تھے۔ وہ کہتا تھا:

"اماں! میں آپ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔ ایک دن ایسا آئے گا جب میں گاڑی میں آؤں گا اور آپ کو تمام آسائشیں دوں گا۔"

وقت گزرتا گیا، عیدیں آئیں اور چلی گئیں۔ محلے کے سب لڑکے عید پر اپنے والدین کے پاس لوٹتے، نئے کپڑے لاتے، مٹھائیاں بانٹتے، مگر اماں کے گھر کا دروازہ ہمیشہ سنسان رہتا۔ جب بھی کوئی گلی سے گزرتا، اماں کا دل دھک سے رہ جاتا کہ شاید وقار آ گیا ہو۔ وہ روز دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ کر سڑک کو تکتی رہتی۔

گاؤں کے لوگ کہتے تھے: "اماں! اب بھول جاؤ اسے، بڑے شہر جا کر لوگ اپنے ماں باپ کو بھول جاتے ہیں۔"

مگر ماں کا دل تو ماننے سے انکاری تھا۔ وہ کہتی تھی:

"میرا بچہ کیسا بھی ہو، میرا پیٹ کا ٹکڑا ہے۔ جب اسے بھوک لگے گی یا دنیا دھکا دے گی، اسے صرف میری ہی گود یاد آئے گی۔"

ایک برس پھر عید کا چاند نظر آیا۔ ہر طرف خوشیاں تھیں، بچوں کے شور میں گلی گوندھ رہی تھی۔ اماں اکیلے ہی مٹی کے چولہے پر روٹیاں پکا رہی تھیں کہ باہر دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

اماں نے دل کی دھڑکنوں کو تھامتے ہوئے دروازہ کھولا سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر جھریوں کی بجائے پریشانی اور گہری ندامت کی لکیریں تھیں، اور کپڑے گرد آلود تھے۔ وہ وقار تھا!

وقار نے اماں کے قدموں میں گر کر ہچکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔ وہ گاڑی اور دولت تو کیا کماتا، شہر کے دھوکے بازوں اور کاروباری ناکامی نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ سب کچھ ہار چکا تھا، سوائے اپنے پچھتاوے کے۔

وہ روتے ہوئے بولا: "اماں! میں سب کچھ ہار کر آیا ہوں... میرے پاس آپ کے سوا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ کیا آپ مجھے معاف کر دیں گی؟"

اماں نے جھک کر بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں: "پاگل! ماں کبھی اولاد سے خفا ہوتی ہے کیا؟ عید کا اصل چاند تو آج میرے گھر نکلا ہے۔"

اس رات اس پرانے گھر میں اندھیرا نہیں تھا، بلکہ برسوں کا بچھڑا ہوا سکون واپس لوٹ آیا تھا۔ کہانی نے ایک بار پھر سچ کر دکھایا کہ اولاد چاہے کتنی ہی دور نکل جائے یا ناکام ہو جائے، ماں کی محبت کا دروازہ ہمیشہ اس کے لیے کھلا رہتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments