اماں کا خالی چشمہ اور پرانی کرسی

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

گاؤں کے ایک پرسکون گھر کے برآمدے میں لکڑی کی ایک بوسیدہ کرسی رکھی تھی، جس پر ایک پرانا چشمہ اور تسبیح ہمیشہ دھرے رہتے تھے۔ یہ کرسی اور چشمہ پچھتر سالہ اماں عائشہ کا تھا، جو ہر روز عصر کے بعد اس کرسی پر بیٹھ کر اپنے اکلوتے بیٹے حیدر کا خط پڑھنے کا ڈھونگ رچایا کرتی تھیں، حالانکہ وہ خط اب برسوں پرانا ہو چکا تھا اور حیدر کو گئے ہوئے پورے دس سال بیت چکے تھے۔

حیدر کے خواب اور شہر کا سفر

حیدر جب بڑا ہوا تو وہ اپنے غریب گھر کے حالات بدلنے کے لیے ایک بڑے شہر میں چلا گیا تھا۔ جاتے وقت اس نے ماں سے وعدہ کیا تھا: "اماں! بس کچھ سال محنت کرنے دو، پھر میں ایک بڑی گاڑی لوں گا اور تمہیں اپنے ساتھ شہر لے جاؤں گا۔" اماں نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا۔

شروع کے چند ماہ تو فون اور خیریت آتی رہی، مگر پھر شہر کی بے رحم دوڑ، دولت کی ہوس اور بلند و بالا خوابوں نے حیدر کو ایسا بدلا کہ اس نے ماں کو یاد رکھنا بھی چھوڑ دیا۔ محلے کے لوگ کہتے تھے: "اماں عائشہ! اب اس بے پرواہ بیٹے کا انتظار چھوڑ دو، شہر کے لوگ اپنے ماں باپ کو بھول جاتے ہیں۔" مگر ماں کا دل کہتا تھا کہ میرا بچہ کیسا بھی ہو، ایک دن اپنی ماں کی آغوش میں ضرور لوٹے گا۔

تقدیر کا پھیر اور ندامت کی شام

وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے حیدر کے ساتھ ایسا کھیل کھیلا کہ اس کے تمام کاروبار اور فریب دھڑے کے دھڑے رہ گئے۔ ایک بڑے مالیاتی فراڈ میں اس کا سب کچھ لٹ گیا، اس کے پاس رہنے کو چھت تک نہ رہی اور جن دوستوں نے کبھی اس کی کامیابی میں ساتھ دیا تھا، وہ منہ پھیر کر چل دیے۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا، تو حیدر کو اس بوڑھی ماں اور اس پرانی کرسی کی یاد ستانے لگی۔

ایک سرد شام، جب ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، اس پرانے گھر کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ اماں عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا؛ سامنے حیدر کھڑا تھا، جس کے چہرے پر کامیابی کی چمک کی بجائے گہری تھکن، ندامت اور آنسو تھے۔

حیدر سیدھا ماں کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں دولت کے نشے میں اندھا ہو گیا تھا، سب کچھ ہار کر اب صرف تمہاری پناہ میں آیا ہوں۔" اماں عائشہ نے جھک کر اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں: "روتے کیوں ہو میرے بچے! ماں کا دل کبھی اولاد کے لیے سخت نہیں ہوتا۔ میرا مسافر لوٹ آیا، میرے لیے اس سے بڑی کوئی دنیا نہیں ہے۔" اس شام وہ پرانی کرسی ایک بار پھر باپ اور بیٹے کے پیار کی گواہ بن گئی۔