آخری خط اور ادھورا چراغ
گاؤں کے بالکل آخری سرے پر بنے ایک مٹی کے گھر میں شام کا سکون ہمیشہ سے ایک گہری اداسی میں ڈوبا رہتا تھا۔ اس گھر میں نوے سالہ مسمات زہرہ اکیلی رہتی تھیں، جن کے ہاتھ کپڑے سیتے سیتے اور آنکھیں راہ تکتے تکتے بالکل پتھرا چکی تھیں۔ ان کا اکلوتا بیٹا اسلم بیس سال پہلے گھر کے حالات بدلنے کے ارادے سے شہر گیا تھا، اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔ زہرہ بی بی کے پاس بیٹے کی واحد نشانی ایک پرانا، ادھورا خط تھا جو اس نے جانے سے پہلے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
اسلم کے وعدے اور شہر کی اندھی دوڑ
جب اسلم گیا تھا تو اس نے ماں کے گلے لگ کر کہا تھا: "اماں! بس کچھ سال کی بات ہے، جب پکی نوکری مل گئی تو تمہیں اس کچے گھر سے نکال کر پکے محل میں لے آؤں گا۔" مگر شہر کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور لالچ نے اسلم کو اس قدر بدلا کہ اسے اپنی بوڑھی ماں کی یاد بھی ایک بوجھ لگنے لگی۔ ابتدائی چند سالوں میں کچھ پیسے آئے، پھر رابطے کم ہوئے اور آخرکار مکمل طور پر بند ہو گئے۔
زہرہ بی بی ہر روز شام کو مٹی کا ایک چھوٹا سا چراغ جلا کر دروازے کی چوکھٹ پر رکھ دیتی تھیں اور خود اس کے پاس بیٹھ کر کہتی تھیں: "میرا اسلم آنے والا ہے، اندھیرا نہ ہو جائے..." محلے والے ترس کھاتے ہوئے کہتے کہ اب اس کا انتظار چھوڑ دو، مگر ماں کا دل کسی ضابطے کو نہیں مانتا تھا۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور خالی گھر
وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے اسلم کو بھی نہیں بخشا۔ کاروبار میں ناکامی، دھوکے اور قرضوں کے بوجھ نے اسے توڑ دیا۔ جب اس کے پاس اپنوں کی قدر کا احساس جاگا تو وہ ایک طویل سفر طے کر کے اپنے آبائی گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دل میں بس یہی امید تھی کہ ماں کا آنچل ہر غلطی معاف کر دیتا ہے۔
جب وہ اس پرانی گلی میں داخل ہوا تو اس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا؛ ماں کا جسم چار پائی پر بے جان پڑا تھا اور ان کے ٹھنڈے ہاتھوں میں وہی ادھورا خط دبا ہوا تھا جو اس نے بیس سال پہلے چھوڑا تھا۔
ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر اسلم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بھاری آواز میں بولا: "اسلم! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی یہی کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا راستہ بھول گیا ہے، کوئی اس کے لیے چراغ جلا دو..." اسلم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، اس کے پاس اب دولت تھی اور نہ ہی ماں کی دعائیں لینے کا کوئی موقع۔ چوکھٹ پر رکھا وہ آخری چراغ خود بخود بجھ چکا تھا۔
0 Comments
Thanks for your feedback.