آخری دیا اور ماں کی چوکھٹ
شہر سے دور ایک چھوٹی سی بستی میں شام ہوتے ہی ہر گھر میں لیمپ اور بلب جل جاتے تھے، مگر ایک بوسیدہ سے کچے گھر کی دہلیز پر ہمیشہ مٹی کا ایک ہی چھوٹا سا دیا روشن ہوتا تھا۔ یہ دیا اسی سالہ مسمات حوا بی بی جلاتی تھیں، جو پچھلے دس سال سے روزانہ غروبِ آفتاب کے وقت دروازے پر بیٹھ کر اس دئیے کی لو کو تکتی رہتیں۔ یہ دیا ان کے اکلوتے بیٹے وقاص کی یاد کا نشان تھا، جو روزگار کی تلاش میں گھر سے گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
وقاص کے خواب اور پردیس کا سفر
وقاص جب جوان ہوا تو اس کی آنکھوں میں بڑے شہر کی بڑی بڑی رنگینیاں اور امیر بننے کے خواب تھے۔ وہ اکثر اپنی ماں سے کہता تھا: "اماں! یہ غریبی ہمارے گھر کی قسمت بن چکی ہے، لیکن میں اسے بدل کر دکھاؤں گا۔ جب تک کمائی کر کے شان سے واپس نہ آؤں، میرا منہ نہ دیکھنا۔" حوا بی بی نے کلیجہ پر پتھر رکھ کر بیٹے کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا تھا۔
ابتدا کے چند ماہ تو وقاص کے فون اور خیریت کے پیغامات آتے رہے، مگر جیسے ہی وہ شہر کی چکاچوند اور دولت کی اندھی دوڑ میں پھنسا، اس کی ترجیحات بدل گئیں۔ اسے اپنی غریب ماں اور کچا گھر ایک پرانی یاد کی طرح بھولنے لگے۔ محلے والے اکثر کہتے: "حوا بی بی! اب اس بے وفا بیٹے کا انتظار چھوڑ دو، شہر کی ہوا لگ جانے کے بعد کوئی پلٹ کر نہیں آتا۔" مگر ماں کا دل ہمیشہ یہی کہتا کہ میرا بچہ جتنا بھی دور نکل جائے، ایک دن پچھتا کر ضرور لوٹے گا۔
تقدیر کا کٹھن امتحان
وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے پلٹا کھایا۔ جس وقاص نے دولت کے غرور میں اپنوں سے منہ موڑ لیا تھا، ایک بڑے کاروباری دھوکے اور فراڈ نے اسے سڑک پر لا کھڑا کیا۔ اس کا سب کچھ لٹ گیا، قرض دار پیچھے پڑ گئے اور وہ دوست جو اس کی کامیابی میں ساتھ تھے، مصیبت کے وقت غائب ہو گئے۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا اور پناہ کی کوئی جگہ نہ بچی، تو وقاص کو اپنی بوڑھی ماں کا وہ دیا اور چوکھٹ شدت سے یاد آئی۔
ایک سرد اور تاریک رات، جب بستی میں سناٹا تھا، حوا بی بی اپنی اسی پرانی چوکھٹ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں کہ اچانک دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے چراغ اٹھایا اور دروازہ کھولا؛ سامنے بارش میں بھیگا ہوا ایک شخص کھڑا تھا، جس کے چہرے پر غرور کی بجائے گہری ندامت اور تھکن کے آثار تھے۔
وہ وقاص تھا! وہ سیدھا ماں کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں دنیا کے فریب میں اندھا ہو گیا تھا، سب کچھ ہار کر اب صرف تمہاری دہلیز پر پناہ مانگنے آیا ہوں۔" حوا بی بی نے جھک کر اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں: "روتے کیوں ہو میرے بچے! ماں کا دل کبھی اولاد کے لیے سخت نہیں ہوتا۔ میرا مسافر لوٹ آیا، اب اس دئیے کو جلانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میرے گھر کا اصل چراغ روشن ہو گیا ہے۔" اس رات اس پرانے گھر کی اداسی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.