پرانا صندوق اور ادھوری لوری
گاؤں کی اس پرانی اور خاموش گلی میں جب رات گہری ہوتی، تو ایک ٹوٹے ہوئے مکان کے اندر سے دھیمی دھیمی سسکیاں اور لوری کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اسی سالہ مسمات بلقیس تھیں، جو بسترِ مرگ پر پڑی ہونے کے باوجود اپنے ہاتھوں سے لکڑی کے پرانے صندوق کو ٹٹول رہی تھیں۔ اس صندوق کے اندر ان کے اکلوتے بیٹے کاچپن کا झولا اور ایک پرانا جھنجھنا رکھا تھا، جو چودہ سال پہلے جوانی کے غرور میں گھر چھوڑ کر شہر گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
بیٹے کے بلند و بالا خواب اور غفلت
جب وہ بیٹا گھر سے نکلا تھا تو اس کی آنکھوں میں شہر کی بڑی عمارتیں اور عیش و آرام کی دنیا بس رہی تھی۔ جاتے ہوئے اس نے ماں سے کہا تھا: "اماں! یہ غریبی کا کچا گھر اور یہ تنگدست زندگی اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گا کہ تجھے محلات جیسی زندگی دوں گا۔" مگر شہر کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور فریب دینے والی رنگینیوں نے اسے اس قدر بدلا کہ اس نے اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گھر کو ایک پرانے بوجھ کی طرح بھلا دیا۔ ابتدائی مہینوں میں کچھ پیسے آئے، پھر خطوط کا سلسلہ کم ہوا اور آخرکار تمام رابطے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔
بلقیس بی بی ہر روز شام کو اس پرانے صندوق کو کھول کر بیٹھ جاتیں اور محلے کے لوگوں سے کہتیں: "کوئی میرے بچے کو بتاؤ کہ اس کی ماں کا دم نکل رہا ہے، وہ آ کر مجھے آخری بار دیکھ لے..." محلے والے ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے، مگر وقت کے اس بے رحم تھپیڑے میں کوئی اس ماں کے دل کا بوجھ ہلکا نہ کر سکا۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور پچھتاوے کا طوفان
برسوں بعد جب اس بیٹے کے کاروبار کو ایک بہت بڑا دھکا لگا، اس کے تمام ساتھی اسے دھوکہ دے کر سارا سرمایہ سمیٹ کر چل دیے، اور وہ شدید مالی زوال کا شکار ہو کر سڑک پر آ گیا، تب اسے اپنے اس اجڑے ہوئے گھر اور اس ماں کی یاد تڑپانے لگی جس نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے دبا ہوا، پھٹے ہوئے کپڑوں میں ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔
جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا، تو اس کے آبائی گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ حواس باختہ ہو کر اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم سفید چادر اوڑھے چار پائی پر پڑا تھا اور ہمسائے تدفین کے آخری مراحل میں مصروف تھے۔
ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولا: "تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی اسی پرانے صندوق کو دیکھ کر ادھوری لوری گنگنا رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا چھوٹا ہے، اندھیرے سے ڈرتا ہوگا، کوئی اس کے لیے چراغ جلا دو..." وہ بیٹا پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ماں کے سرد قدموں پر سر رکھ کر چیخ چیخ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب اس پرانے صندوق اور ادھوری لوری کے پاس رونے والے اس کے آنسو پونچھنے کے لیے وہ ماں ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی اور اس کے حصے میں صرف زندگی بھر کی تنہائی اور پچھتاوا رہ گیا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.