ابّا کی پرانی تسبیح اور ویران چوکھٹ
گاؤں کی اس پرانی گلی میں جب بھی شام کا اندھیرا اترتا، ایک خستہ حال مکان کے دالان میں رکھی لکڑی کی کرسی پر نوے سالہ بابا فضل اکیلے بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے کانپتے ہاتھوں میں ایک لکڑی کی پرانی تسبیح رہتی تھی، جس کا ہر دانہ اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے کا نام بھی دہراتا تھا۔ ان کا بیٹا ناصر چودہ سال پہلے بستی کے حالات سے تنگ آ کر بڑے شہر گیا تھا اور پھر دولت کی ہوس میں ایسا گم ہوا کہ اس نے مڑ کر اپنے بوڑھے باپ کی خبر تک نہ لی۔
ناصر کے بڑے خواب اور بے وفائی
ناصر جب گھر سے رخصت ہوا تھا تو اس کی زبان پر ایک ہی ضد تھی: "ابّا! یہ تنگدست حویلیاں اور عام مزدوری اب مجھ سے مزید نہیں کاٹی جاتی۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گا کہ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔" بابا فضل نے اسے گلے لگاتے ہوئے سمجھایا تھا کہ بیٹا، سکون پیسوں میں نہیں بلکہ اپنوں کی دعا میں ہوتا ہے، مگر ناصر کے سر پر شہر کا جنون سوار تھا۔
شروع کے چند ماہ فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، پھر رابطے کم ہوتے گئے اور آخرکار بالکل منقطع ہو گئے۔ شہر کی رنگینیوں نے ناصر کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ وہ اپنے بوڑھے باپ اور اس مٹی کے گھر کو یکسر بھول گیا۔ بابا فضل غمِ جدائی اور ٹوٹے دل کے ساتھ دن رات تسبیح کے دانے پھیرتے ہوئے بس یہی دعا کرتے رہے کہ ان کا بیٹا صحیح سلامت لوٹ آئے۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور سناٹا
وقت کا پہیہ گھوما اور ناصر کی وہ فریب دنیا ایک لمحے میں ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گئی۔ دوست منہ پھیر گئے، کاروبار برباد ہو گیا اور وہ شدید مالی و ذہنی بحران کا شکار ہو گیا۔ جب اس کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ رہی، تب اسے اپنے اس آبائی گھر اور باپ کی یاد شدت سے تڑپانے لگی۔
ایک بارش کی رات، ناصر پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹا ہوا، روتا ہوا اس پرانے گھر کی دہلیز پر پہنچا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ ہمسایوں نے باہر نکل کر دیکھا تو گھر اب ایک ویران کھنڈہر بن چکا تھا اور بابا فضل چند لمحے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔
ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر ناصر کے ہاتھ میں وہی ابّا کی پرانی تسبیح تھمائی اور روتے ہوئے بولا: "ناصر! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہارے باپ نے مرتے وقت بھی اسی تسبیح کے ہر دانے پر تمہاری ہی سلامتی کی دعا مانگی تھی..." ناصر نے اس تسبیح کو اپنے ماتھے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب اس کے آنسوؤں کا مول چکانے اور اس سے معافی مانگنے کے لیے اس دنیا میں اس کا باپ موجود نہیں تھا؛ اور اس کے حصے میں صرف زندگی بھر کا پچھتاوا اور ویران چوکھٹ رہ گئی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.