ماں روتی رہی بیٹے دیکھتے رہے: ایک دردناک کہانی
شہر کے ایک پوش علاقے میں قائم شان و شوکت سے بھری حویلی میں دولت کی ریل پیل تھی، مگر اس حویلی کے اندر بسنے والوں کے دل پتھر کے ہو چکے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسی ماں کی جس کے آنسوؤں کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا، اور اس کے وہ بیٹے جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بے حس بنے بیٹھے تھے۔ دولت کی چکاچوند میں اندھے ہو جانے والے ان بیٹوں نے کبھی ماں کی سسکیوں کی آواز اپنے دل تک نہیں آنے دی تھی۔ اس گھر کا ہر کونہ ایک ایسے المیے کی گواہی دے رہا تھا جہاں رشتے صرف نام کے رہ گئے تھے اور انسانیت دم توڑ چکی تھی۔ بلقیس بیگم، جو اس گھر کی مالکن تھیں، آج اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں کٹہرے میں کھڑی صدمے سے دوچار تھیں۔ ان کے چہرے کی جھریاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنی اولاد کی خاطر قربان کر دیا تھا، مگر بدلے میں انھیں صرف تنہائی، بے توجہی اور بیٹوں کی سرد مہری ملی تھی۔
بلقیس بیگم کے تین بیٹے تھے—ولید، جاذب اور سہراب۔ تینوں کی فطرت اور سوچ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ولید ان سب میں سب سے بڑا تھا، جو بچپن ہی سے ایک نرم دل اور فرماں بردار انسان تھا۔ اس کے برعکس، جاذب دولت کے غرور میں اس حد تک آگے نکل چکا تھا کہ اسے ماں کی بوڑھی آنکھیں اور ان کے بہتے ہوئے آنسو ایک آنکھ نہ بھاتے۔ جاذب کا رویہ ہمیشہ سے اپنی ماں کے ساتھ انتہائی سخت اور توہین آمیز رہا کرتا تھا۔ وہ ہر بات پر ماں کو طعنے دیتا اور کہتا کہ اب اس بوڑھی اور ضعیف عورت کا اس جدید گھر میں کوئی کام نہیں۔ تیسرا بھائی سہراب تھا، جو درمیانی فطرت کا مالک تھا۔ سہراب خود تو براہِ راست ماں کو زیادہ تکلیف نہیں دیتا تھا، مگر وہ جاذب کی زیادتیوں کو دیکھ کر بھی خاموش رہتا تھا، کیونکہ اس میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اپنے طاقتور اور غصیلی بھائی جاذب کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ اس طرح، ماں کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی چلی گئی اور گھر کا ماحول کسی جہنم سے کم نہ رہا۔
ماضی کی قربانیاں اور بیٹوں کی بے حسی
اگر ماضی کے پنوں کو پلٹا جائے تو یہی بلقیس بیگم تھیں جنھوں نے اپنے شوهر کی اچانک وفات کے بعد اکیلے ان تینوں بیٹوں کو پالا تھا۔ جب والد کا سایہ سر سے اٹھا تو ولید بہت چھوٹا تھا، جاذب شیرخوار تھا اور سہراب بم مشکل چار سال کا تھا۔ رشتہ داروں نے جائیداد پر قبضے کی کوشش کی، مگر اس نڈر ماں نے اکیلے دنیا کا مقابلہ کیا۔ راتوں کو جاگ کر سلائی کی، لوگوں کے طعنے سہے، اپنے ہاتھ کے زیورات بیچ کر بچوں کو پڑھایا اور انہیں اس قابل بنایا کہ آج وہ شہر کے نامور کاروباری بن سکیں۔ لیکن افسوس کہ جب ان کے پاؤں پر طاقت آئی اور کاروبار چمک اٹھا، تو وہ یہ بھول گئے کہ اس مقام تک پہنچانے والی ہستی کون تھی۔ جاذب نے تو حد ہی کر دی تھی؛ وہ اکثر ماں کو کمرے سے باہر نکلنے پر منع کرتا اور کہتا کہ اس کے مہمانوں کے سامنے آنے سے اس کی ناک کٹ جاتی ہے۔ بلقیس بیگم سسک سسک کر روتی رہتیں، اور جاذب اپنی اکڑ میں مست رہتا، جبکہ سہراب ایک کونے میں کھڑا یہ سب تماشا چپ چاپ دیکھتا رہتا۔
ولید کی طبیعت ان دونوں بھائیوں سے بالکل مختلف تھی۔ ولید نے ہمیشہ اپنی ماں کے دل کی بات کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ جب بھی جاذب ماں کو تکلیف دیتا، ولید کا دل خون کے آنسو روتا۔ وہ اکیلے میں ماں کے پاؤں دباتا، ان کے آنسو پونچھتا اور کہਦਾ کہ اماں آپ حوصلہ رکھیں، وقت بدل جائے گا۔ مگر بلقیس بیگم کہتی تھیں کہ بیٹا! اولاد جب پتھر بن جائے تو دل کا روگ لا علاج ہو جاتا ہے۔ ولید نے اپنی نوکری اور چھوٹے موٹے کاموں سے اتنی کمائی کر رکھی تھی کہ وہ ماں کی بنیادی ضرورتیں پوری کر سکے، مگر جاذب کے پاس دولت کی فراوانی تھی جو وہ صرف اپنی عیش و عشرت پر اڑاتا تھا۔ جاذب کی یہ خود غرضی دن بہ دن بڑھتی گئی یہاں تک کہ اس نے گھر کے نچلے حصے کے ایک تاریک گودام میں بلقیس بیگم کو منتقل کر دیا، جہاں نہ روشنی تھی اور نہ ہوا کا گزر۔ اس ظلم پر بھی سہراب نے ایک حرف احتجاج بلند نہ کیا، اور دونوں بھائی مل کر ماں پر ہونے والے اس جبر کا حصہ بنے رہے۔
ظلم کی انتہا اور ولید کا صبر
ایک سرد رات جب باہر تیز بارش ہو رہی تھی، بلقیس بیگم کی طبیعت شدید خراب ہو گئی۔ انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور بخار سے ان کا جسم تپ رہا تھا۔ وہ کراہتی ہوئی دروازے تک آئیں اور جاذب کو آواز دی کہ بیٹا مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو، میری جان نکلی جارہی ہے۔ جاذب اپنے دوستوں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں پارٹی میں مصروف تھا، اس نے دروازہ کھولا اور غصے سے چلاتے ہوئے بولا کہ آپ کا روز کا ڈراما شروع ہو جاتا ہے، مجھے تنگ نہ کریں اور اپنے کمرے میں جائیں۔ ماں نے روتے ہوئے سہراب کو پکارا، تو سہراب نے نظریں چرا لیں اور کہا کہ امی آپ ولید کو کہیں۔ اس دل دہلا دینے والے منظر میں ماں پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی اور دونوں بیٹے بے حسی کی تصویر بنے دیکھتے رہے۔
اس نازک گھڑی میں صرف ولید مسیحا بن کر سامنے آیا۔ جب ولید کو پتہ چلا تو وہ بھاگتا ہوا آیا، اس نے اپنی ماں کو اپنی آغوش میں اٹھایا، بارش میں بھیگتے ہوئے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور اکیلے ہی ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر بروقت لایا نہ جاتا تو ماں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ ہسپتال کے بستر پر جب بلقیس بیگم نے ہوش سنبھالا تو ان کے سامنے صرف ولید کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ ماں کے ہاتھ چوم رہا تھا۔ ماں نے کمزور آواز میں کہا کہ میرے باقی بیٹے کہاں ہیں؟ تو ولید نے دل پر پتھر رکھ کر کہا کہ اماں وہ بس کام میں مصروف ہیں۔ اس رات ماں کی سسکیاں ہسپتال کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں، مگر وہ دل سے اپنے ان بیٹوں کے لیے بھی دعائیں مانگ رہی تھی جو اسے اس حال میں چھوڑ آئے تھے۔
قدرت کا انصاف اور وقت کا پلٹا
وقت کا پہیہ گھوما اور قدرت نے اپنا قانون دکھایا۔ جاذب کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر فراڈ ہو گیا، اس کے شراکت دار اسے کروڑوں کا نقصان دے کر فرار ہو گئے۔ بینکوں کے قرضے سر پر آ گئے، اور وہ عالیشان کوٹھی جو جاذب کے غرور کی علامت تھی، بینک کی قرقی میں چلی گئی۔ جن دوستوں کے ساتھ جاذب پارٹی کرتا تھا، وہ سب منہ موڑ کر بھاگ گئے، اور اس کی بیوی بھی زیورات سمیٹ کر اپنے میکے چلی گئی۔ جاذب اور سہراب دونوں سڑک پر آ گئے، ان کے پاس سر چھپانے کی جگہ تک نہ بچی تھی۔ ندامت اور شرمندگی کے بوجھ سے ان کے سر جھک گئے تھے، اور انہیں ایک ایک لمحے پر اپنی بدتمیزی اور ظلم پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ جو اولاد ماں کے آنسوؤں کا سبب بنتی ہے، اسے دنیا میں ذلت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
دوسری طرف، ولید نے دن رات ایک کر کے اپنی محنت جاری رکھی۔ اس کی دیانت داری اور مستقل مزاجی رنگ لائی، اور اس نے اپنے چھوٹے سے کاروبار کو ایک بڑی کامیابی میں بدل دیا۔ ولید نے اپنی محنت کی کمائی سے ایک پرسکون گھر خریدا اور اپنی ماں کو اس میں عزت کے ساتھ لے گیا۔ جب جاذب اور سہراب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ روتے ہوئے ولید کے گھر آئے اور ماں کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگے۔ جاذب جو کبھی غرور سے کہتا تھا کہ ماں کا اس گھر میں کوئی مقام نہیں، آج اسی ماں کے قدموں میں سر رکھے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ بلقیس بیگم کا ماں دل ایک بار پھر پسیج گیا، انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو سینے سے لگا لیا اور معاف کر دیا۔ ولید نے بھی بڑے بھائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان دونوں کو گلے سے لگایا اور کہا کہ گھر ہمیشہ ماں کے دم سے آباد ہوتا ہے۔
کامیابی کا اصل مفہوم اور انجام
آج ولید کے اس گھر میں بلقیس بیگم کا سایہ ایک رحمت کی طرح موجود ہے۔ جاذب اور سہراب اپنی غلطیوں سے توبہ کر چکے ہیں اور اب وہ بھی ولید کے ساتھ مل کر ماں کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے اب جو آنسو بہتے ہیں وہ ندامت اور شکرانے کے ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دولت اور طاقت عارضی چیزیں ہیں، اصل دولت ماں کی دعائیں اور خدمت ہے۔ جو اولاد ماں کے آنسو پونچھتی ہے، قدرت اسے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی بلندیوں سے نوازتی ہے، اور جو لوگ ماں کو روتا چھوڑ دیتے ہیں ان کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.