پردیس کا سفر اور اپنوں کی بے رخی
یہ کہانی ہے ایک ایسے گھرانے کی جہاں غربت اور مجبوری نے رشتوں کے مکھوٹے نوچ ڈالے۔ زبیر ایک محنتی اور شریف نوجوان تھا، جو اپنے بوڑھے والدین اور بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ گھر کے حالات اتنے ناگفتہ بہ تھے کہ دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک روزانہ کا عذاب بن چکا تھا۔ زبیر کی ماں، جن کے دل میں دولت اور نمود و نمائش کی ہوس پلتی تھی، ہمیشہ اپنے بیٹے کو طعنے دیتی رہتی تھیں کہ وہ خاندان میں کسی لائق نہیں۔ زبیر کی بیوی، جو اس کہانی کا مرکزی اور صبر آزما کردار ہے، ایک ایسی دوشیزہ تھی جس نے کبھی شکوہ کرنا نہیں سیکھا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور جو کچھ بھی کر رہا ہے، اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے کر رہا ہے۔
زبیر کا پردیس جانا اور تیمور کا مکروہ روپ
حالات کے جبر کے آگے ہار مانتے ہوئے زبیر نے آخرکار پردیس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے قرض لے کر ویزا حاصل کیا اور اپنے گھر والوں کو بہتر زندگی کی امید دلاتے ہوئے سمندر پار روانہ ہو گیا۔ زبیر کے جانے کے بعد گھر کی فضا یکسر بدل گئی۔ ساس جو بظاہر زبیر کی موجودگی میں نرمی کا ناٹک کرتی تھیں، اب اپنے اصلی رنگ میں آ گئیں۔ اس گھر میں ایک اور کردار بھی تھا، جو ساس کا قریبی رشتہ دار اور ایک خود غرض انسان تیمور تھا۔ تیمور اس محلے کا ایک ایسا شخص تھا جو دوسروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانا بخوبی جانتا تھا۔ تیمور کا اس گھر میں اٹھنا بیٹھنا تھا، اور وہ زبیر کی غیر موجودگی میں اس کی معصوم بیوی پر دباؤ ڈالنے لگا۔
تیمور نے ساس کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جس کا مقصد زبیر کی بیوی کو توڑنا اور اس کی عزت و غیرت کو پامال کرنا تھا۔ ساس نے ہر روز بیٹی کی طرح رکھنے کا وعدہ فراموش کر کے اس مظلوم بہو پر ظلم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔ اسے گھر کے تمام سخت کام اکیلے کرنے پڑتے، کھانے کے لیے سوکھا ٹکڑا ملتا اور رات بھر آنسوؤں کے ساتھ تکیہ بھگونا اس کا مقسوم بن گیا۔ تیمور اکثر گھر آتا اور ساس کی موجودگی میں اس پر فقرے کستا، طعنے دیتا کہ اب اس کا شوہر اسے بھول چکا ہے اور وہ یہاں اکیلی تڑپتی رہے گی۔ لیکن اس تمام اذیت کے باوجود، اس بہو نے اپنے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اس نے اپنے شوہر کی عزت کو داغدار ہونے سے بچانے کے لیے ہر دکھ چپ چاپ س सह لیا، یہ سوچ کر کہ شاید اس کا صبر ایک دن رنگ لائے گا۔
آصف کا ساتھ اور سچائی کا اجالا
اندھیری رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، صبح کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ اس کہانی میں سائیڈ کردار کے طور پر آصف کا داخلہ ایک موڑ ثابت ہوا۔ آصف محلے کا ایک باضمیر، درد دل رکھنے والا اور ایماندار نوجوان تھا، جو زبیر کا پرانا دوست بھی تھا۔ آصف نے جب دیکھا کہ زبیر کی عدم موجودگی میں اس کے گھر میں کس قدر ناانصافیاں ہو رہی ہیں اور تیمور نامی شخص اس خاندان کی آڑ میں کیا کھیل کھیل رہا ہے، تو اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ آصف نے چپکے سے اس مظلوم بہو کی مدد کرنے کا تہیہ کیا۔ وہ غیبی مددگار بن کر سامنے آیا؛ کبھی ضرورت کا سامان دروازے پر رکھ جاتا تو کبھی ساس اور تیمور کی سازشوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے لگا۔
ایک روز جب ظلم کی انتہا ہو گئی اور تیمور نے ساس کی شہ پر تمام حدیں پار کرتے ہوئے اس گھر پر قبضہ کرنے اور بہو کو زبردستی گھر سے نکالنے کی کوشش کی، تو آصف اپنے کچھ معزز دوستوں اور محلے کے لوگوں کو لے کر عین موقع پر وہاں پہنچ گیا۔ آصف نے نہ صرف تیمور کے تمام مکروہ عزائم کو سب کے سامنے بے نقاب کیا بلکہ ساس کی آنکھیں بھی کھول دیں۔ اس نے وہ تمام ثبوت پیش کیے جو بتاتے تھے کہ کس طرح تیمور اس بوڑھی ماں کو ورغلا کر اس کے بیٹے کے گھر کو برباد کرنے کے درپے تھا۔ جب ساس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو بہت دیر ہو چکی تھی، لیکن پچھتاوے کی آگ نے اس کے اندر کا غرور اور لالچ جلا کر راکھ کر دیا۔
صبر کا پھل اور خوشیوں کی واپسی
وقت کا پہیہ گھوما اور زبیر جب پردیس سے کامیابی کے ساتھ اور کچھ مال و دولت کما کر واپس لوٹا، تو اس نے اپنے گھر کا منظر بدلا ہوا پایا۔ اسے جب اپنی بیوی پر کیے گئے ظلم اور تیمور کی سازشوں کا علم ہوا، تو اس کا دل دہل گیا، لیکن ساتھ ہی اسے اپنی بیوی کے اس عظیم صبر پر فخر بھی محسوس ہوا جس نے طوفانوں کے سامنے چٹان بن کر مقابلہ کیا تھا۔ ماں نے روتے ہوئے اپنے بیٹے اور بہو سے معافی مانگی، اور تیمور کو ہمیشہ کے لیے اس گھر سے نکال باہر کیا گیا۔ اس کہانی سے یہ درس ملتا ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر انسان صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھے، تو کائنات کی کوئی طاقت اس کا حق نہیں چھین سکتی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.