ایک باپ کا ادھورا وعدہ اور بیٹی کی قربانی
زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں فیصلے مجبوری بن جاتے ہیں اور محبتیں امتحان کی بھٹی سے گزرتی ہیں۔ یہ کہانی ہے عثمان اور اس کی معصوم بیٹی مریم کی، جن کی زندگی میں خوشیاں اتنی مختصر تھیں کہ وہ لمحوں میں سمٹ کر رہ گئیں۔
کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں گھر میں ایک عجیب سا سکون اور آنے والے مہینے کی خوشیاں تھیں۔ عثمان کی اہلیہ آئشہ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے عثمان سے ایک ہولناک وعدہ لیتی ہیں کہ وہ ان کی بیٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور اس کا ہمیشہ خیال رکھیں گے۔ لیکن وقت کے ہاتھ کتنے بے رحم ہوتے ہیں، اس کا اندازہ عثمان کو تب ہوا جب حالات نے اسے دوبارہ شادی کرنے پر مجبور کر دیا۔
دوسری بیوی، شاہزی شروع تو بڑی شفقت سے پیش آئی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اصل روپ سامنے آنے لگا۔ جب عثمان کو روزگار کے سلسلے میں باہر جانا پڑا، تو اس نے شاہزی کے حوالے اپنی جگر کا ٹکڑا یہ کہہ کر کیا کہ وہ اس کا خاص خیال رکھے مگر گھر کی چار دیواری کے اندر معصوم مریم پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔ جہاں ایک طرف گھریلو کاموں کی سختی تھی، وہیں دوسری طرف محبت اور شفقت کی شدید کمی تھی۔ مریم روزانہ اپنے باپ کو یاد کرتی، اپنے دل کے پھپھولے دل میں دبائے رکھتی، مگر کسی کو اس کی معصومیت پر رحم نہ آیا۔
سالوں بعد جب عثمان واپس لوٹا، تو اس نے دیکھا کہ اس کی شہزادی کو کس دردناک حال میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ عثمان کو یوں لگا جیسے اس نے اپنی مردہ روح کے ساتھ اپنی بیٹی کے اعتماد کو بھی دفن کر دیا ہو۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا اور کہا کہ وہ آئشہ کا دیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ شاہزی نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور معافی کی بھیک مانگی۔
مریم، جس کا دل فرشتوں جیسا پاک تھا، اس نے اپنی سوتیلی ماں کو معاف کر دیا کیونکہ اس کے باپ نے سکھایا تھا کہ بڑا وہی ہوتا ہے جو معاف کرنا جانتا ہو۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگرچہ دنیا میں ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، لیکن معافی، محبت اور احساس ہی وہ طاقت ہیں جو ٹوٹی ہوئی زندگیوں کے بکھرے ہوئے تاروں کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔

0 Comments
Thanks for your feedback.