MAA ki Kahani | Urdu Khani | Ek Maa Ki Aakhiri Dua Jisne Badaldi Taqdeer

Ek Maa Ki Aakhiri Dua Badaldi Taqdeer

سیلاب کی لہریں اور تیمور کا امتحان

قدرت جب اپنا غضب ڈھاتی ہے تو بڑے بڑے محلات اور پختہ ارادے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سیلاب زدہ علاقے میں جہاں ہر طرف پانی کا راج تھا، زندگی تھم چکی تھی۔ اس کٹھن وقت میں ایک طرف جہاں حکومتی سطح پر کشتیوں والے کلینکس لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مصروف تھے، وہیں دوسری طرف ایک گھر کے اندر انسانی رشتوں کی بنیادیں ہل رہی تھیں۔ تیمور اس گھر کا ایک ایسا نوجوان تھا جو دل کا تو نرم تھا لیکن حالات کے طوفان کے آگے خود کو بے بس پاتا تھا۔ تیمور کی بوڑھی ماں بستر مرگ پر تھیں، جن کی سانسیں ڈوبتی جا رہی تھیں، لیکن ان کے دل میں اپنے بیٹے کے لیے صرف ایک ہی دعا مچل رہی تھی کہ اللہ میرے تیمور کو اس آزمائش سے سرخرو نکالے۔

تیمور کی یہ معصومیت اور مجبوری اس کے لیے سب سے بڑا عذاب بنی ہوئی تھی کیونکہ اس کے اپنے ہی خون کے رشتے اس کے خلاف صف آرا ہو چکے تھے۔ سیلاب کے اس شور میں گھر کے اندر ایک اور طوفان اٹھ رہا تھا جو باہر کے پانی سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ تیمور دن رات محنت کرتا تاکہ اپنی بیمار ماں کا علاج کروا سکے اور اس سیلاب زدہ ماحول میں دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکے، لیکن اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا قریبی عزیز تھا۔ ماں کی اس حالت نے تیمور کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ تقدیر اس کے لیے کیا لکھی بیٹھی ہے۔

آصف کی مکاری اور ظلم کی رات

اس کہانی کا سب سے تاریک اور منفی کردار آصف تھا، جو رشتے میں تیمور کا ایک قریبی جاننے والا تھا لیکن دل سے انتہائی مکار، خود غرض اور مادہ پرست انسان تھا۔ آصف کی نظر ہمیشہ اس خاندان کی بچی کچی جائیداد اور اس زمین پر تھی جو سیلاب کے پانی سے بچ گئی تھی۔ آصف نے اس ہنگامہ خیز ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیمور کو مالی طور پر مکمل طور پر مفلوج کرنے کی سازش تیار کی۔ وہ جانتا تھا کہ تیمور اس وقت اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے کمزور ہے، اس لیے اس نے جعلی دستاویزات کے ذریعے تیمور کے گھر اور زمین پر قبضہ کرنے کا مکروہ کھیل شروع کر دیا۔

آصف نے نہ صرف تیمور پر جھوٹے مقدمات بنوانے کی کوشش کی بلکہ اس سیلاب زدہ طوفان میں تیمور کو امدادی سامان اور طبی امداد ملنے سے بھی روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تاکہ وہ ٹوٹ جائے۔ ایک شام، جب بارش زوروں پر تھی اور سیلاب کا پانی گھر کی دہلیز تک آ پہنچا تھا، آصف اپنے کچھ غنڈوں کے ساتھ تیمور کے گھر میں زبردستی گھس آیا۔ اس نے بیمار ماں کے بستر کے پاس کھڑے ہو کر تیمور کو دھمکی دی کہ وہ یا تو گھر کے کاغذات پر دستخط کر دے ورنہ وہ اس بوڑھی ماں کو اس طوفان میں باہر نکال دے گا۔ تیمور کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بے بسی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا، کیونکہ اس کے پاس اپنی ماں کی جان بچانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

شہزاد کا انٹری اور مدد کے ہاتھ

اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سچائی کا سورج نکلنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس نازک ترین موڑ پر اس کہانی میں شہزاد کا کردار ایک غیبی مدد کی طرح سامنے آیا۔ شہزاد اس علاقے کا ایک درد دل رکھنے والا، نڈر اور باضمیر نوجوان تھا جو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دن رات ایک کر رہا تھا اور حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی کشتیوں کے کلینک کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر لوگوں تک دوائیں پہنچا رہا تھا۔ شہزاد کو جب معلوم ہوا کہ آصف اس مشکل وقت میں بھی تیمور جیسے شریف انسان کو لوٹنے کی ناپاک کوشش کر رہا ہے، تو اس کا خون کھول اٹھا۔

شہزاد فوری طور پر اپنے چند بااعتماد دوستوں اور مقامی انتظامیہ کے افراد کو لے کر عین اس وقت تیمور کے گھر پہنچ گیا جب آصف زبردستی کاغذات پر انگوٹھا لگوانے ہی والا تھا۔ شہزاد نے نہ صرف آصف کے تمام مکروہ عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اس کے تمام جعلی دستخطوں اور فریب کے ثبوت بھی موقع پر ہی سرعام بے نقاب کر دیے۔ جب آصف کو معلوم ہوا کہ اس کا یہ گھناؤنا کھیل اب سب کی نظروں میں آ چکا ہے اور قانون کا شکنجہ اس پر تنگ ہو رہا ہے، تو وہ خوفزدہ ہو کر اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے دم دبا کر بھاگ گیا۔ شہزاد نے فوراً حکومتی کشتی والے کلینک کے ڈاکٹرز کو بلا کر تیمور کی بیمار ماں کا علاج شروع کروایا، جس سے اس بوڑھی جان کو ایک نئی زندگی مل گئی۔

ما ماں کی آخری دعا اور تقدیر کا بدلنا

طوفان تھم چکا تھا اور سیلاب کا پانی آہستہ آہستہ اتر رہا تھا۔ تیمور کے گھر کی فضا میں اب خوف کی بجائے ایک پرسکون اجالا پھیل چکا تھا۔ اس کی بیمار ماں، جو کچھ دیر پہلے تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھیں، اب بہتر محسوس کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے تیمور کو اپنے قریب بلایا، اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ اس کے سر پر رکھے اور دل کی گہرائیوں سے ایک ایسی دعا دی جو آسمانوں کے دروازے چیر کر عرش تک پہنچ گئی۔ ماں کی وہ آخری دعا ہی تھی جس نے اس کی تمام پلٹی ہوئی قسمت کو سنوار دیا تھا۔ شہزاد کی بروقت مدد اور دوستی نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ آصف کو اس کے گناہوں کی سزا مل چکی تھی، اور تیمور کی زندگی میں ایک بار پھر سے خوشیوں اور سکون کا سویرا ہو چکا تھا، جو یہ سکھاتا ہے کہ صبر اور سچی ماں کی دعا کا اثر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

```

Post a Comment

0 Comments