بوڑھے والدین کا صبر اور گھر کی فضا
۔
زندگی کی شام جب ڈھلتی ہے تو انسان کو صرف سہارے اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کچھ گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں بڑھاپا کسی عذاب سے کم نہیں بن جاتا۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ہی غریب اور بے بس گھرانے کی، جہاں دو بوڑھے ماں باپ نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کے لیے کھپا دی تھی، مگر بدلے میں انہیں صرف دکھ اور اپنوں کی بے رخی ملی۔ اس کہانی کا مرکزی ہیرو آصف تھا، ایک ایسا شریف، محنتی اور باضمیر نوجوان جو شہر کی تپتی دھوپ میں سارا دن مزدوری کرتا تاکہ اپنے بوڑھے والدین کو دو وقت کی روٹی اور سکون دے سکے۔ آصف دل کا بہت نرم تھا اور اپنے ماں باپ کے ایک ایک اشارے پر جان چھڑکتا تھا۔ اس کی شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی تھی جو دولت کی پکاری اور بدتمیز طبیعت کی مالک تھی، اور وہ سسرال کے غربت بھرے ماحول کو دیکھ کر ہر وقت منہ بنائے رکھتی تھی۔
گھر کے اندر حالات اس وقت انتہائی تلخ ہو گئے جب اس بدتمیز بہو نے بوڑھے ماں باپ کا جینا حرام کر دیا۔ وہ روزانہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرتی، ساس سسر کو طعنے دیتی کہ وہ اس گھر میں بوجھ کی طرح بیٹھے ہیں اور ان کی وجہ سے اس کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ آصف جب سارا دن محنت کر کے تھکا ہارا گھر لوٹتا تو اسے گھر میں سکون کی بجائے ماں باپ کی سسکیاں اور بیوی کی تلخ زبان کا سامنا کرنا پڑتا۔ آصف اندر سے ٹوٹ چکا تھا کیونکہ وہ ایک طرف اپنی بیوی کی بدتمیزیوں سے تنگ تھا اور دوسری طرف اپنے بوڑھے ماں باپ کے آنسو دیکھ کر اندر ہی اندر گھل رہا تھا۔ وہ بے بسی کی اس تصویر بن چکا تھا جو چاہ کر بھی اپنے ماں باپ کو وہ خوشیاں نہیں دے پا رہا تھا جس کے وہ حقدار تھے۔
نوید کی شیطانیت اور ظلم کی انتہا
اس کہانی کا سب سے تاریک اور منفی کردار نوید تھا، جو رشتے میں آصف کا ایک قریبی عزیز لگتا تھا لیکن دل سے انتہائی مکار، خود غرض اور سنگدل انسان تھا۔ نوید کی نظر طویل عرصے سے اس غریب گھر کے آبائی مکان اور اس زمین کے ٹکڑے پر تھی جو شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے مہنگی ہو چکی تھی۔ نوید نے گھر کے اندر چلنے والی اس کشمکش اور بدتمیز بہو کی زود گُو طبیعت کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ چپکے سے اس بہو کے رابطے میں آ گیا اور اسے جھوٹے خواب دکھانے لگا کہ اگر وہ اپنے شوہر پر دباؤ ڈال کر ان بوڑھے ماں باپ کو گھر سے باہر نکلوا دے گی تو وہ اس جائیداد کا بڑا حصہ اس کے نام کروا دے گا۔ اس طرح گھر کے اندرونی جھگڑوں میں نوید نے بیرونی زہر گھولنا شروع کر دیا، جس سے حالات تیزی سے قابو سے باہر ہو گئے۔
ظلم کی انتہا تو اس وقت ہو گئی جب نوید نے اس بدتمیز بہو کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جس کے تحت انہوں نے بوڑھے ماں باپ کو زبردستی گھر سے دھکے دے کر نکالنے کے جعلی کاغذات تیار کروا لیے۔ ایک شام جب آصف مزدوری کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا، نوید اپنے چند غنڈہ صفت ساتھیوں کو لے کر زبردستی آصف کے گھر میں گھس آیا۔ اس نے ان دونوں بوڑھے ماں باپ کو بستر سے اٹھا کر باہر سڑک پر پھینکنے کی کوشش کی اور کہا کہ اب یہ مکان ان کا ہو چکا ہے۔ وہ بدتمیز بہو بھی اس وقت نوید کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور لالچ میں آ کر الٹا ساس سسر پر غصہ نکال رہی تھی، یہ سوچ کر کہ شاید اس سے اس کا مستقبل سنور جائے گا۔ بوڑھے ماں باپ کی سسکیاں اور نوید کی دھمکیاں اس گھر کی بربادی کا پکا ثبوت بن چکی تھیں۔
تیمور کا کردار اور سچائی کا اجالا
اندھیری رات کتنی ہی ہولناک کیوں نہ ہو، سچائی کا سورج نکلنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس گھپ اندھیرے میں اس کہانی میں تیمور کا کردار ایک روشن ستارے کی طرح ظاہر ہوا۔ تیمور محلے کا ایک باشعور، نڈر اور انصاف پسند نوجوان تھا جو اس سائیڈ کردار کے طور پر اس پورے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔ تیمور جانتا تھا کہ آصف کتنا محنتی اور اپنے والدین کا وفادار بیٹا ہے، اور نوید کے اندر کیا گندے ارادے پل رہے ہیں۔ تیمور نے جب دیکھا کہ نوید نے اس غریب خاندان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر بوڑھے ماں باپ پر ظلم کی انتہا کر دی ہے اور آصف کی بیوی اس سازش کا حصہ بن چکی ہے، تو اس نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔
تیمور نے اپنی ذہانت اور حسی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے پچھلے کئی دنوں سے نوید اور اس بدتمیز بہو کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقاتوں، جعلی دستخطوں کے عمل اور اس کے غنڈہ عناصر کے ساتھ رابطوں کے پکے ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔ عین اسی وقت جب نوید زبردستی کاغذات پر انگوٹھا لگوانے ہی والا تھا، تیمور آصف کو ساتھ لے کر وہاں آ پہنچا، جو راستے میں ہی تیمور کو مل گیا تھا۔ تیمور نے وہ تمام حقائق اور ثبوت سرعام سب کے سامنے رکھ دیے، جنہیں دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جب آصف نے اپنی بیوی کی اس مکاری اور نوید کے گھناؤنے فریب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، تو اس کا دل ٹوٹ گیا لیکن اس نے فوراً اپنے بوڑھے ماں باپ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
پچھتاوا اور صبر کا عظیم انعام
جب حقائق پوری طرح بے نقاب ہو گئے تو نوید کا چہرہ زرد پڑ گیا اور وہ لوگوں کے ڈر سے وہاں سے دم دبا کر بھاگ گیا۔ وہ بدتمیز بہو جب اپنے کیے پر پچھتانے لگی اور اس نے آصف اور اس کے بوڑھے والدین کے سامنے معافی مانگنے کی کوشش کی، تو اسے یہ احساس ہوا کہ لالچ اور بدتمیزی کا انجام ہمیشہ رسوائی ہوتا ہے۔ آصف نے اپنی بیوی کو اس کی اس گھناؤنے حرکت پر ہمیشہ کے لیے گھر سے رخصت کر دیا اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگی۔ ماں باپ نے اپنے بیٹے کو دل سے معاف کر کے دعاؤں سے نوازا۔ تیمور کی بروقت مدد نے اس گھر کو ٹوٹنے سے بچا لیا۔ اس دل دہلا دینے والی کہانی سے یہ ابدی سبق ملتا ہے کہ دنیا میں چالاکیاں اور بدتمیزیاں کتنی ہی عروج پر کیوں نہ ہوں، جیت ہمیشہ سچ، صبر اور ماں باپ کی دعاؤں کی ہی ہوتی ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.