غریب ماں باپ کا سایہ اور نوید کی جدوجہد
۔
دنیا میں سب سے قیمتی اور انمول رشتہ ماں باپ کا ہوتا ہے، لیکن جب یہ رشتہ غربت اور مفلسی کی چکی میں پستا ہے تو زندگی ایک کٹھن امتحان بن جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ہی انتہائی غریب اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے ماں باپ کی، جن کی کل کائنات ان کا اکلوتا بیٹا نوید تھا۔ نوید ایک محنتی، شریف النفس اور اپنے والدین کا بے حد فرمانبردار نوجوان تھا۔ غربت نے اس گھرانے پر اپنے ڈیرے اس طرح ڈال رکھے تھے کہ دو وقت کی روٹی کا حصول بھی کسی جنگ سے کم نہ تھا۔ نوید کے والد ایک طویل عرصے سے بیمار تھے اور چارپائی پر لیٹے اپنی بے بسی پر خاموش آنسو بہاتے رہتے تھے، جبکہ اس کی بوڑھی ماں سارا دن محلے والوں کے کپڑے سی کر چند سکے جوڑتی تاکہ اپنے بیمار شوہر کی دوائی لا سکے۔ نوید سارا دن شہر کی سخت دھوپ اور کڑاکے کی سردی میں مزدوری کرتا، اپنا خون پسینہ ایک کرتا تاکہ اس کے غریب ماں باپ کو رات کو بھوکا نہ سونا پڑے۔
نوید جب بھی تھک ہار کر گھر لوٹتا، تو اس کی ماں اپنے آنچل سے اس کے ماتھے کا پسینہ صاف کرتی اور اس کا ماتھا چوم کر ڈھیروں دعائیں دیتی۔ وہ کچے آنگن والا چھوٹا سا مکان محبت اور خلوص کا گہوارہ تھا، جہاں دولت تو نہیں تھی لیکن سکون بے تحاشا تھا۔ مگر اس دنیا میں غریب کا سکون بھی ظالموں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ ان کا یہ پرانا خستہ حال مکان شہر کی ایک ایسی ابھرتی ہوئی جگہ پر واقع تھا جس کی قیمت دن بدن بڑھ رہی تھی۔ نوید کی دن رات کی محنت اور والدین کی دعائیں اسے ہر مشکل سے لڑنے کا حوصلہ تو دے رہی تھیں، لیکن وہ اس خوفناک طوفان سے بالکل بے خبر تھا جو ان کے اس چھوٹے سے آشیانے کو تنکوں کی طرح اڑانے کے لیے تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
تنویر کی سنگدلی اور ظلم کا آغاز
اس جذباتی کہانی کا سب سے تاریک اور وحشت ناک کردار تنویر تھا، جو علاقے کا ایک بااثر، لالچی اور انتہائی مکار شخص تھا۔ تنویر کی گدھ جیسی نظریں عرصے سے نوید کے اس آبائی مکان پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ غریب اور بے بس ہیں اور ان کا معاشرے میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔ تنویر نے اپنی طاقت اور پیسے کے نشے میں اندھا ہو کر ان غریب ماں باپ کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے علاقے کے چند بدعنوان لوگوں اور پٹواری کو رشوت دے کر مکان کے جعلی کاغذات اپنے نام تیار کروا لیے۔ اس کے بعد تنویر نے روزانہ غنڈے بھیج کر اس بوڑھے اور بیمار باپ کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا کہ وہ شرافت سے یہ مکان خالی کر دیں ورنہ وہ ان کے اکلوتے بیٹے نوید کو کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے گا۔ بوڑھی ماں یہ سن کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگتی، لیکن وہ اپنے بیٹے نوید کو اس پریشانی سے دور رکھنا چاہتی تھی۔
ظلم کی انتہا اس وقت ہوئی جب ایک بارش اور سردی سے بھری اندھیری رات میں، تنویر خود اپنے حواریوں کے ساتھ زبردستی نوید کے کچے مکان میں گھس آیا۔ نوید اس وقت شہر سے باہر مزدوری کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔ تنویر نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے چارپائی پر پڑے اس غریب بیمار باپ کا گریبان پکڑا اور اسے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ غریب ماں چیختی اور روتی رہی، اس نے تنویر کے پاؤں تک پکڑے اور واسطہ دیا کہ خدا کے لیے ان پر رحم کرے، ان کے پاس اس چھت کے سوا کچھ نہیں ہے، لیکن تنویر کے دل میں کوئی رحم نہ تھا۔ اس نے سارا سامان گھر سے باہر پھینکنا شروع کر دیا اور ان بے بس والدین کو بارش میں سڑک پر کھڑا کر دیا۔ غریب ماں کی سسکیاں اور باپ کی بے بسی دیکھ کر آسمان بھی رو رہا تھا، لیکن اس ظالم کو ذرا برابر ترس نہ آیا۔
آصف کی انٹری اور سچائی کی جیت
جب اندھیرا بہت گہرا ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ سویرا بہت قریب ہے۔ اس ناامیدی اور ظلم کے اندھیرے میں اس کہانی کا سائیڈ کردار آصف روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوا۔ آصف، نوید کا بچپن کا دوست تھا اور محلے کا ایک پڑھا لکھا، باشعور اور نڈر نوجوان تھا۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے تنویر کی ان مشکوک حرکات اور اس کے غنڈوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ آصف کو معلوم تھا کہ تنویر کس قدر مکار ہے، اس لیے اس نے خاموشی سے تنویر کے جعل سازوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے شروع کر دیے تھے۔ اس نے پٹواری کے دفتر سے اصل ریکارڈ کی کاپیاں نکلوا لی تھیں اور پولیس کے اعلیٰ حکام تک تنویر کی ان غنڈہ گردیوں کی رپورٹ پہنچا دی تھی۔
عین اس وقت جب تنویر ان غریب ماں باپ کو گلی میں بے عزت کر رہا تھا، نوید بھی کام سے واپس پہنچ گیا۔ اپنے ماں باپ کی یہ حالت دیکھ کر نوید کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اکیلا ان غنڈوں سے بھڑتا، آصف پولیس کی ایک بھاری نفری اور محلے کے تمام معززین کو لے کر وہاں پہنچ گیا۔ آصف نے وہ تمام جعلی کاغذات اور ثبوت پولیس کے سامنے رکھ دیے، جنہیں دیکھ کر تنویر کے ہوش اڑ گئے۔ سچائی سب کے سامنے آ چکی تھی کہ تنویر نے کس طرح ایک غریب خاندان کو بے گھر کرنے کے لیے فریب کا جال بنا تھا۔ پولیس نے تنویر اور اس کے ساتھیوں کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔
والدین کی دعائیں اور صبر کا پھل
حق اور سچ کی فتح نے ظالم کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ تنویر اور اس کے حواری اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے اور ان کے چہروں پر ذلت کی سیاہی ملی ہوئی تھی۔ نوید نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنے گیلے اور سردی سے کانپتے ہوئے ماں باپ کو گلے سے لگا لیا۔ غریب باپ کی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسو بہہ رہے تھے، جبکہ ماں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر آصف اور اپنے بیٹے نوید کے حق میں ایسی دعائیں کیں کہ وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان غریب ماں باپ کی دعاؤں میں وہ اثر تھا جس نے اتنے بڑے ظالم کو سرنگوں کر دیا تھا۔ آصف کی سچی دوستی اور بروقت مدد نے ایک غریب گھرانے کا سکون واپس لوٹا دیا تھا۔ اس کہانی سے ہمیں یہ ابدی اور خوبصورت سبق ملتا ہے کہ دنیا میں غریب ماں باپ کی دعاؤں سے بڑی کوئی طاقت نہیں، اور ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، سچائی اور انصاف کے سامنے اسے ایک دن گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔

0 Comments
Thanks for your feedback.