مجبور ماں اور غریب باپ کا کٹھن امتحان
۔
زندگی جب انسان کو کٹھن امتحان میں ڈالتی ہے تو رشتوں کی اصلیت اور اپنوں کے روپ کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ہی بے بس اور خستہ حال گھرانے کی جہاں ایک مجبور ماں اور ایک غریب بیمار باپ نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے قربان کر دی تھی۔ اس گھر کا مرکزی ہیرو تیمور تھا، ایک انتہائی محنتی، شریف اور باضمیر نوجوان جو دن بھر شہر کی تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتا تاکہ اپنے بوڑھے والدین کو دو وقت کی روٹی اور ان کی ادویات مہیا کر سکے۔ تیمور کی راتیں اپنے والد کے بستر کے پاس بیٹھ کر ان کے پاؤں دباتے اور ماں کے آنسو پونچھتے ہوئے گزرتی تھیں۔ وہ اپنے ماں باپ کے چہرے کی اداسی کو مٹانے کے لیے اپنی ہر خوشی کو پس پشت ڈال چکا تھا، لیکن وہ اس تلخ حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ دنیا میں کچھ ایسے خود غرض اور سنگدل لوگ بھی موجود ہیں جو غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر وقت گھناؤنی سازشیں بُنتے رہتے ہیں۔
گھر کے حالات اس وقت مزید خراب ہونا شروع ہوئے جب والد کی بیماری کی وجہ سے تیمور کو لوگوں سے قرض لینا پڑا اور اس چھوٹے سے مکان پر مالی دباؤ بڑھنے لگا۔ مجبور ماں دن بھر اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے اپنے بیٹے کے لیے دعائیں مانگتی رہتی کہ کسی طرح ان کا یہ چھوٹا سا آشیانہ سلامت رہے اور ان کا بیٹا اس دنیا کی طوفانی ہواؤں سے محفوظ رہے۔ تیمور سارا دن مزدوری کرنے کے بعد جب شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا تو ماں کے ہاتھ کا بنا ہوا سادہ کھانا کھا کر اپنی ساری تھکن بھول جاتا تھا۔ ان کا یہ گھر اگرچہ اینٹوں اور گارے کا بنا ہوا ایک معمولی سا مکان تھا، مگر والدین کی شفقت کی وجہ سے وہاں محبت کا سکون ہمیشہ محسوس ہوتا تھا، جسے دیکھ کر باہر بیٹھے مفاد پرستوں کے دل میں جلن کی آگ بھڑک اٹھتی تھی۔
تنویر کی مکاری اور ظلم کا طوفان
اس کہانی کا سب سے تاریک اور منفی کردار تنویر تھا، جو رشتے میں ایک ایسا ناسور تھا جس نے انسانیت کو شرمشار کر رکھا تھا۔ تنویر ایک انتہائی مکار، حاسد اور مادہ پرست انسان تھا، جس کی پوری توجہ صرف تیمور کے اس آبائی مکان اور اس زمین کے ٹکڑے پر تھی جو اب تجارتی لحاظ سے کافی قیمتی ہو چکی تھی۔ تنویر نے بڑی چالاکی کے ساتھ کچھ جعلی دستاویزات تیار کیں اور کچہری کے چند بدعنوان کارندوں کو ملا کر ایک ایسا فرضی معاہدہ بنا لیا جس کے مطابق تیمور کے والد نے وہ زمین اسے گروہ رکھ دی تھی۔ تنویر نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ وہ روزانہ اس مجبور ماں اور غریب باپ کے پاس آتا اور انہیں دھمکیاں دیتا کہ وہ مکان خالی کر دیں ورنہ وہ ان کے بیٹے کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھجوا دے گا۔ اس معصوم ماں کا دل خوف سے کانپ اٹھتا، لیکن وہ اندر ہی اندر گھٹتی رہتی تھی۔
ظلم کی تمام حدیں اس وقت پار ہو گئیں جب ایک سرد اور اندھیری شام کو تنویر اپنے چند غنڈہ صفت ساتھیوں کو لے کر زبردستی تیمور کے گھر میں گھس آیا۔ اس نے بستر مرگ پر پڑے غریب باپ کو دھکا دے کر اٹھانے کی کوشش کی اور مجبور ماں کو بال پکڑ کر گھر سے باہر نکالنے کی دھمکی دی۔ عین اسی وقت تیمور مزدوری سے واپس لوٹا اور جب اس نے اپنے گھر کے اندر یہ ہولناک منظر دیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ تیمور نے روتے ہوئے تنویر کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ اس کے باپ کی سانسیں پہلے ہی اکھڑ رہی ہیں، اسے اس حال میں نہ ستائے، لیکن اس ظالم نے الٹا تیمور پر ہاتھ اٹھایا اور دھکے دے کر اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ تیمور کی بے بسی اور اس کے والدین کی سسکیاں دیکھ کر وہاں کا سارا ماحول غم اور غصے سے نڈھال ہو گیا۔
نوید کا کردار اور سچائی کا اجالا
اندھیری رات کتنی ہی طویل اور ہولناک کیوں نہ ہو، صبح کا اجالا اسے مٹا کر ہی دم لیتا ہے۔ اس گھپ اندھیرے میں اس کہانی میں نوید کا کردار ایک روشن ستارے کی طرح نمودار ہوا۔ نوید محلے کا ایک باشعور، نڈر اور انصاف پسند نوجوان تھا، جو اس سائیڈ کردار کے طور پر اس پورے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔ نوید جانتا تھا کہ تیمور کتنا محنتی اور اپنے بوڑھے والدین کا وفادار بیٹا ہے، اور تنویر کے اندر کیا گندے ارادے پل رہے ہیں۔ نوید نے اس مشکل گھڑی میں خاموش رہنے کے بجائے تیمور کی ڈھارس بندھائی اور اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا پکا عزم کیا۔
نوید نے اپنی ذہانت اور حسی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے پچھلے کئی دنوں سے تنویر کی تمام خفیہ چالوں، جعلی دستخطوں کے عمل اور اس کے غنڈہ عناصر کے ساتھ رابطوں کے پکے ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔ ایک روز جب تنویر نے پنچایت اور محلے کے تمام معزز لوگوں کو جمع کر کے تیمور کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے گھر سے بے دخل کرنے کی آخری کوشش کی، تو نوید عین وقت پر تمام تحریری اور قانونی ثبوت لے کر وہاں آ پہنچا۔ نوید نے وہ تمام حقائق سرعام سب کے سامنے رکھ دیے، جنہیں دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ سب پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ تنویر نے کس طرح ایک غریب محنتی بیٹے اور اس کے بے بس والدین کو برباد کرنے کے لیے ایک گھناؤنا جال بُنا تھا۔
ماں باپ کی دعا اور صبر کا عظیم انعام
جب حقائق پوری طرح بے نقاب ہو گئے تو تنویر کا چہرہ زرد پڑ گیا اور اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں بچا۔ محلے کے لوگوں نے اس مکار فعل پر تنویر کو شدید ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے ذلیل کر کے اس علاقے سے ہمیشہ کے لیے باہر نکال دیا۔ تنویر کے جانے کے بعد گھر کا بکھرا ہوا سکون ایک بار پھر بحال ہو گیا۔ تیمور نے آگے بڑھ کر اپنے بیمار باپ اور مجبور ماں کو گلے سے لگا لیا، جن کی آنکھوں سے اب خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس ماں اور باپ نے اپنے دونوں کانپتے ہوئے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور تیمور اور اس کی مدد کرنے والے سچے دوست نوید کے حق میں ایسی دعائیں دیں کہ پورا ماحول معطر ہو گیا۔ اس دل دہلا دینے والی کہانی سے یہ ابدی سبق ملتا ہے کہ دنیا میں چالاکیاں کتنی ہی عروج پر کیوں نہ ہوں، جیت ہمیشہ سچ، صبر اور ماں باپ کی دعاؤں کی ہی ہوتی ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.