کرم الدین اپنی بیٹی کو میرے بیٹے سے دور رکھو ورنہ چوہدری سکندر کا غصہ تمہارے اس چھوٹے سے گھر کا سکون برباد کر دے گا۔ چوہدری صاحب ہم غریب ضرور ہیں لیکن میری بیٹی نے کوئی گناہ نہیں کیا، خدا کے لیے ہم پر رحم کریں۔ کرم الدین تمہاری بیٹی نے گناہ نہیں بلکہ بہت بڑا جرم کیا ہے، یہ میری آخری وارننگ ہے اب میں تمہیں سمجھانے دوبارہ نہیں آؤں گا۔

Urdu Khaniya

محبت اور خاندانی وقار کی کشمکش

چوہدری سکندر گاؤں کا ایک بااثر شخص تھا جس کے فیصلے ہی آخری فیصلے ہوتے تھے۔ اس کا بیٹا حمزہ پردیس سے اپنی پڑھाई مکمل کر کے واپس گاؤں لوٹ آیا تھا۔ حویلی میں حمزہ کی واپسی پر بہت جشن منایا گیا اور پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ حمزہ اپنے والد کے ساتھ اپنی زمینوں کا دورہ کرنے گیا جہاں اس کی ملاقات کرم الدین کی بیٹی مہک سے ہوئی۔ مہک کی سادگی اور صاف دل انداز نے حمزہ کے دل میں گھر کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کی محبت پروان چڑھنے لگی۔

رشتے کی مخالفت اور گھر سے جدائی

جب چوہدری سکندر کو اپنے بیٹے اور مہک کے رشتے کے بارے میں پتہ چلا تو اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ اس نے اسے اپنے خاندان کی عزت کے خلاف سمجھا اور اس رشتے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ حمزہ نے اپنے والد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ انسان کی اصلیت اس کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ہوتی ہے، لیکن چوہدری سکندر اپنی ضد پر اڑے رہے۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ حمزہ نے مہک کا ساتھ نبھانے کے لیے اپنی حویلی اور گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور شہر چلا گیا۔

نئی زندگی اور خوشگوار انجام

شہر پہنچ کر حمزہ نے محنت سے ایک نوکری حاصل کی اور کرم الدین اور مہک کو بھی اپنے پاس بلا کر ایک نئی زندگی کی شروعات کی۔ کچھ وقت بعد حمزہ اور مہک کا نکاح ہو گیا اور وہ سکون بھری زندگی گزارنے لگے۔ دوسری طرف، حویلی میں بیٹے کی جدائی کا صدمہ چوہدری سکندر کی بیوی برداشت نہ کر سکیں اور ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ آخر کار چوہدری سکندر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی انا کو چھوڑ کر حمزہ کو واپس بلا لیا۔ سب نے پرانی کڑواہٹ بھلا کر ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور کہانی کا ایک خوشگوار انجام ہوا۔

Post a Comment

0 Comments